تعارف۔
۔۱ ، رمضان 1438، بمطابق ۲۷ مئی 2017
میرا تعارف اس بلاگ میں ابھی موجود نہیں ہے، بہت جلد انشاٗاللہ میں اس سیکشن کی تکمیل کروں گا۔ درج ذیل تعارف اس شخصیت کا ہے کہ جس کے حب قرآن نے نہ صرف مجھے بہت زیادہ متاٗثر کیا بلکہ مجھے اس بات پہ بھی آمادہ کیا کہ ان کے مشہور زمانہ دورہ قرآن کو میں متعدد بار سنوں اور کچھ نتائج اخذ کرسکوں۔ میں بحیثیت مسلمان اس بات کو اپنا فریضہ سمجھتا ہوں کہ قرآن کو نا صرف سمجھوں، اس سے نتائج برآمد کروں، بہت اہم یہ کہ اس کو اپنی زندگی کی ہدایت کا راستہ بنائوں، بلکہ ساتھ ساتھ اپنی تقریباً دو دہائی پہ مشتمل درس و تدریس کی جو صلاحیت بھی اللہ نے مجھے دی اس کو استعمال کروں۔ میں ہرگز اس بات کا دعویٰ نہیں کرسکتا کہ یہ نتائج جو میں نے اخذ کئے ہیں وہ صد فی صد صحیح ہی ہوں گے، بلکہ جس طرح قرآن کو بار بار پڑھنے سے اس کے اسرار و رموز مزید کھلتے ہیں اسی طرح میں اپنے آپ کو ایک طالب علم کی حیثیت جان کہ اس بات کی حد الامکان کوشش ہی کرسکا ہوں۔ اپنے قاریوں سے بھی میں یہی گذارش کروںگا کہ اس کوشش میں میرا ساتھ دیں اور مثبت انداز میں ممکن غلطیوں کی طرف وہ مجھے متوجہ کریں۔ آخر کار اس پوری محنت کا اصل و اصل مقصد قرآن کو سیکھنا اور سکھانا ہے انشاٗاللہ۔
درج ذیل شخصیت بر صغیر پاک و ھند میں کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں، میں وکیپیڈیا پہ موجود ان کے مختصر مگر جامع تعارف پہ اکتفاٗ کروں گا۔
ڈاکٹر اسرار احمد ایک ممتاز پاکستانی مسلمان سکالر تھے، جو پاکستان، بھارت، مشرق وسطیٰ اور امریکہ میں اپنا دائرہ اثر رکھتے تھے۔ آپ بھارت کے ضلع ہریانہ میں مؤرخہ 26 اپریل، 1932ء کو پیدا ہوئے۔
آپ تنظیم اسلامی کے بانی تھے، جو پاکستان میں نظام خلافت کے قیام کی خواہاں ہے۔ تنظیم اسلامی کا مرکزی ہیڈکوارٹر لاہور، پاکستان میں واقع ہے۔
آئیے ہم اپنے بلاگ کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے اللہ کے حضور دعا کرتے ہیں کہ اللہ ہمیں قرآن کی صحیح سمجھ عطا فرمائےاور اس پر اپنی زندگی کو ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے اور آخرت میں اسی قرآن کو ہماری نجات کا ذریعہ بنائے۔ آمین، ثم آمین۔
قرآن کے بارے میں ۳ اہم عقیدے
۔ اللہ کا کلام
۔ محمد ؐ پر نازل ہوا
۔ جب سے نازل ہوا من و عن محفوظ ہے
قرآن خود ایک اہم کتاب کا ایک جز ہے، جسے لوح محفوظ کہا گیا ہے۔ قرآن سے پہلے نازل ہونے والے سب صحیفے اور کتابیں بھی اسی لوح محفوظ سے ہی لی گئی ہیں۔
اللہ کا علم جو کہ قدیم ہے اور اتنا وسیع ہے کہ اس علم کو مکان اور زمان کی کوئی قید نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زمان اور مکان دونوں مخلوق کے لئے بنائے گئے ہیں اور ظاہر ہے کہ جب اللہ ہی سب چیزوں کا خالق و مالک ہے تو اگر زمان اور مکان اس کے لئے بھی ایک رکاوٹ بن جائیں تو پھر وہ نہ تو اس کا خالق ہوا نہ ہی اسکا مالک، اسی لئے ایسا ہرگز نہیں اور یہ اس کی شان سے بالاتر ہے کہ وہ بھی عام مخلوق کی طرح مکان اور زمان کی قید میں رہے۔ یہ بھی ایک وجہ ہے کہ مخلوق کی قسمت میں عمر اور عمر درازی ہے، نیند ہے کہ اس کے دماغی خلئے زیادہ بنائے جائیں اور پھر آخری سیڑھی موت، جبکہ وہ ذات نہ تو اونگھتی ہے نہ اس کی عمر میں کوئی فرق پڑتا ہے، اور نہ ہی اسے موت کا کوئی ڈر۔
لوح محفوظ بھی اللہ کی علم قدیم کا ایک ثبوت ہے۔ جس میں سے اخذ کی گئی کتابیں اور صحیفے اقوام کی مناسبت سے اور ان کی زمانی حاجات کے لئے حل اور راہ ہدایت دیتی آئی ہیں۔
اور قرآن کی کئی ایک معجزوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ آخری کتاب ہے جو انسان کی ھدایت کے لئے نازل ہوئی اور اپنی شان میں یہ خود مکمل راہ ہدایت ہے۔
اگر اس بات کو اس طرح سمجھا جائے کہ ایک گاڑی بنانے والا انجینئر جب اپنی گاڑی بنالیتا ہے تو اب اس کو استعمال کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی ایسا طریقہ استعمال کرتا ہے کہ وہ دوسروں کو بتا سکے کہ اس گاڑی کو کیسے استعمال کیا جائے؟ اس گاڑی کو استعمال کرنے میں کیا کیا جائے، کیا نہ کیا جائے۔ اس گاڑی کے لئے کیا صحیح ہے اور کیا غلط ۔ اس کو وہ اگر کتابی شکل دیدے تو ظاہر ہے اسے اس بات کا بھی خاص اہتمام کرنا پڑے گا کہ اس کتاب میں موجود تمام ہی ہدایات اپنی جگہ موجود رہیں اور ان میں کسی قسم کا کوئی ردو بدل نہ کیا جاسکے۔
اگر آج کوئی اس انجینئر سے یہ پوچھے کہ اس گاڑی کا مقصد کیا ہے؟ تو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ہر سننے والا اس سوال کا کیا مذاق بنائے گا۔
ہاں صرف اس صورت میں یہ سوال صحیح ہوتا کہ کسی غار میں رہنے والا شہر کے تمدن میں داخل ہو، وہ اپنے ارد گرد موجود ہر چیز کو نہ صرف حیران و پریشانی سے دیکھے گا بلکہ شاید یہ سوچنے پہ بھی مجبور ہوجائے کہ یہ سب شاید نہایت ہی بے مقصد ہے۔ اسکا اپنا ہر کام تو باآسانی پتھر اور لکڑی کے اوزاروں سے ہو ہی جاتا ہے تو ان سب چیزوں کی آخر کیا ضرورت اور مقصد ہے؟
ہم اگر اپنے خالق و مالک کو سمجھنا چاہیں تو شاید اسکی مثال ایسی ہی ہو کہ نرسری میں پڑھنے والا بچہ کہکشاں کے رازوں کو سمجھنے کی کوششیں کرنا شروع کردے، اس کا استاد اسے صرف یہ سمجھا سکے گا کہ اس بچے کی ذہنی صلاحیت ابھی اس قابل نہیں کہ وہ یہ سب باتیں جان سکے اور سمجھ سکے۔
اللہ نے یہ دو عالم دو حصوں میں بانٹ دیا ہے، ایک کوعالم امر کا نام دیا اور دوسرے کو عالم خلق کا نام۔
اپنے پاس اللہ نے عالم امر کو رکھا ہے اور اپنی مخلوق کے لئے عالم خلق۔ آج اس دور میں ہم معلومات کے ایک سمندر میں غوطہ زن ہونے کے باوجود بھی اپنے آپ کو ایک طفل سے زیادہ نہیں سمجھتے ، کیونکہ سائنس کی ایجادات اور عالم خلق کی دریافت آج بھی ہمیں یہی بتاتی ہے کہ یہ دنیا ابھی بھی خلقیت کے دور سے گذر ہی رہی ہے اور آج کا کوئی انسان یہ دعویٰ نہ کرسکے گا کہ اس نے اپنے علم کو مکمل کرلیا ہے۔
اللہ کے عالم امر میں ہر ایک کام صرف اللہ کے لفظ “کن” سے تعبیر ہے، اور اللہ کے عالم خلق میں ہر کام زمان و مکان کی قید میں ہے۔ یہ فرق اس لئے بھی سمجھنا ضروری ہے کیوںکہ انسان بہت سی خواہشات کی تعبیر کو جلد سے جلد پانا چاہتا ہے اور یہ بھول جاتا ہے کہ اس کی دسترس عالم خلق سے آگے نہیں ہے۔
اب ہم اپنے اسی انجینئر کی مثال پہ واپس آئیں تو اس انجینئر کو اپنی نئی کار کو بیچنے اور اس کو استعمال کرنے میں اپنے ان خاص لوگوں کی ضرورت ہوگی جو کہ ملک ملک گھوم کے لوگوں کو اس کار کے بارے میں بتائیں اور خواہش مند لوگوں کو اس کار کے استعمال کی تربیت دے سکیں۔ یہاں یہ انجینئر تو عالم خلق کے اصولوں کا پابند ہے کہ وہ ہر جگہ ہر وقت موجود نہیں رہ سکتا اسی لئے وہ مجبور ہے کہ اپنے ان خاص لوگوں کی مدد حاصل کر سکے۔
اللہ نے بھی اپنے بنائے ہوئے اصول کے مطابق عالم خلق میں اپنے چنے ہوئے لوگوں کو اسی بات پہ معمور کیا کہ وہ جس جگہ مبعوث کئے جائیں اللہ کی بھیجی ہوئی ہدایات لوگوں کو پہنچا دیں اور خواہشمند لوگوں کو باقاعدہ تربیت دیں۔
ہم اس دنیا اور اسکی مشکلات کو اس طرح زیادہ بہتر طریقے سمجھ سکتے ہیں کہ آپ ایک امتحان کے ہال کا تصور کریں کہ جہاں امتحان دینے والے اپنی اپنی نشست پہ موجود اپنا اپنا پرچہ حل کر رہے ہیں۔ ممتحن ہال میں موجود طالب علموں کو نہ صرف پرچہ میں آنے والے سوال کا حل سجھا رہا ہے بلکہ کچھ اساتذہ کو بھی ہال میں بھیج کر ان طالب علم کی مدد بھی کر رہا ہے جو سوالات کی مشکلات میں حیران و پریشان بیٹھے ہیں، آپ کچھ طلباٗ کو ایک دوسرے کی نقل کرتے ہوئے بھی دیکھیں گے، کچھ طلباٗ اپنا پرچہ چھوڑ چھاڑ کے کسی اور کام میں مشغول بھی نظر آئیں گے۔ اور انہی طلباٗ میں کچھ ایسے بھی ہوں گے جو اپنے نظر نہ آنے والے ممتحن کا صاف انکار کریں گے، دوسروں کو بھی یہی سمجھائیں گے کہ کن کاموں میں لگے ہو، جب تک اس ہال میں موجود ہو زندگی جیو، کن مشکلات میں یہ وقت ضائیع کر رہے ہو۔ آپ یہ بھی دیکھیں گے کہ کچھ طلباٗ اپنا پرچہ مکمل کرنے کے بعد ہال سے جاچکے ہوں گے۔ آپ یہ بھی صاف دیکھ سکیں گے کہ ہال میں موجود اور چلے جانے والے طلباٗ کو ان کا نتیجہ ابھی نہیں دیا گیا، کیونکہ ابھی شاید وقت امتحان ختم نہیں ہوا۔ مگر اگر تھوڑی سی بھی عقل لڑائیں تو یہ سمجھنا بہت آسان ہوگا کہ ان طلباٗ کا نتیجہ بہر حال نکلے گا ہی، بظاہر ابھی بھی وقت امتحان باقی ہے مگر ایک نہ ایک دن نتیجہ کا دن ضرور آئیگا، ورنہ اس سارے امتحان ، ان اساتذہ اور ان مشکلات کا آخر کیا فائدہ ؟ اور شاید پھر اس امتحان گاہ کا وجود اور اس امتحان کا وقوع پذیر ہونا تو سرے سے بے مقصد ہی ہوا۔
اسی طرح سے ہمیں یہ سمجھ لینا چاہیئے کہ یہ دنیا ، اس کی مشکلات اور اس کے امتحانات بھی بے مقصد نہیں، اس کا خالق ایک وقت معیین تک ہمیں آزما رہا ہے کہ ہم اس امتحان میں کیا کرتے ہیں، کیا ہم اس امتحان گاہ میں رہ کر اپنے لئے متاع آخرت جمع کرلیتے ہیں یا اپنے آپ کو دھوکے میں رکھ کے خالی ہاتھ ہی چلے جاتے ہیں۔
اب تک ہم یہ سمجھ چکے کہ یہ دنیا، اسکے کارخانے اور یہ امتحان گاہ اپنے آپ ہی وجود میں نہیں آگئی، بلکہ کوئی یقیناَ اس کا خالق ہے، اور یہ کہ اس دنیا کو سمجھنے اور اس دنیا کو گزارنے کے لئے ہمیں کسی نہ کسی گائیڈلائن کی ضرورت تو ہے، کوئی ایسی چیز جو ہمیں اس دنیا کو سمجھنے کی، اس کے مقصد کی اور ہمارے یہاں آنے کے مقصد کی نشاندہی کرے۔ یہ ہدایت نامہ قرآن ہے۔
پس منظر
اللہ نے دو عالم کی تخلیق کے بعد عالم خلق کو اپنے حسن و روشنائی سے جگمگانے کے لئے سب سے پہلے تخلیق فرمائی فرشتوں کی، جو کہ نور سے پیدا کئے گئے۔ ان کے ذمے بہت سے الگ الگ کام لگائے گئے، کچھ کے ذمے ہوائیں چلانا طے ہوا، کچھ اللہ کے عرش کو تھام کے کھڑے ہوئے اور کچھ اللہ کے علم قدیم یعنی لوح محفوظ کی نگرانی پہ مامور ہوئے۔ ان تمام فرشتوں میں سراپا عبدیت اور فرمانبرداری بھر دی گئی۔ ان فرشتوں کا کام اللہ کے ہر حکم کو اپنا مقصد حیات بنالینا ٹھہرا۔ خالق کی کسی خواہش یا حکم کو یہ ٹال نہیں سکتے۔ اسی لئے مقرب بنا لئےگئے تاکہ انتظام کی باگ ڈور انہی کے ھاتھوں میں دی جائے۔
پھر اللہ نے دنیا اور آسمان کی تخلیق فرمائی، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیاروں، ستاروں اور سورج کی تخلیقات کے بعد سورج کی آگ کی لپٹ سے اللہ نے جنات کی تخلیق فرمائی۔ یہ مخلوق بنا دھوئیں کی آگ سے تخلیق فرمائی گئی۔ زمین و آسمان میں ان کا گزر بہت آسان بنا دیا گیا، جیسے آج ہمارے راکٹ اور خلائی جہاز تیل کی توانائی کو استعمال میں لا کر چاند کی دھول چاٹ آئے ہیں۔ یہ خاص توانائی ان جنات میں قدرتی طور پہ ودیعت کر دی گئی۔ جس سے ان کے لئے زمین و آسمان کو لمحات میں پار کرلینا ممکن ہو سکا۔ یہ مخلوق پہلی مخلوق سے تھوڑی الگ تھی، اس میں اللہ نے خود ارادی کی طاقت عطا کردی۔ اب اللہ کا حکم فرشتوں کی طرح آنکھ بند کرکے ماننے کے بجائے جنات کے پاس یہ مرضی کا عنصر شامل ہوگیا۔ یہیں سے سزا اور جزا کے بیج پڑ گئے۔ اللہ کا حکم ماننے سے جزا کا اور نہ ماننے پہ سزا کا مستحق بنایا گیا۔ اور ایک واضح فرق دونوں مخلوقات میں یہ بھی رہا کہ فرشتے اللہ کے حکم کے پابند ہیں اور اپنی عقل لڑا کر اس کی تعمیل یا انکار کی صلاحیت جنات کو دے دی گئی۔ جنات نے اپنی عقل کے زور پہ معاملات سمجھنا اور ان کو مختلف طریقوں سے پورا کرنا آسان بنا لیا۔ ایسا لگتا ہے کہ معاملات کی سمجھ بوجھ میں جنات شاید فرشتوں کے کان کترنے لگے اللہ کی عبادت کو نت نئے طریقوں سے ادا کر کے ان جنات نے اپنی جگہ خالق کے قریب سے قریب تر بنا لی۔ اب احساس حسد تو کبھی فرشتوں کے شایان شان رہا ہی نہیں مگر جنات میں آگے سے آگے بڑھنے اور اپنے خالق کو مزید خوش کرنے کے لئے مقابلے کی آگ نے لے لی۔
یہاں ہم متعارف ہوتے ہیں ایک ایسے ہی جن سے جس کا نام عزازیل تھا۔ یہ اسکا اعزازی نام ہے یا اصلی، واللہ اعلم، مگر دوسرے اعلی درجے کے فرشتوں کے نام سے ایسا لگتا ہے کہ اس کو بھی یہ نام ہم وزن دیا گیا جیسے جبرائیلؑ، اسرافیلؑ، میکائیلؑ اور عزرائیلؑ۔ اللہ نے اسی جن کی حقیقت اس کے اپنے اوپر ظاہر کرنے کے لئے اپنے سب سے ماسٹر اسٹروک خلقیت “جناب انسان” کی پیدائش فرمائی۔ پچھلی دونوں مخلوقات کے برعکس انسان کا مادہ تخلیق اسی زمین و آسمان کی موجود مٹی ٹھہری۔ اللہ نے آدمؑ کو مٹی سے تخلیق فرمایا اور پھر اپنی روح سے اس کے اندر پھونکا تو یہ جیتا جاگتا انسان وجود میں آگیا۔
فرشتے اس سے تھوڑا ٹھٹکے، اور اللہ کی جناب میں گزارش رکھی کہ یہ بھی زمین وآسمان میں بیشتر جنات کی طرح خون خرابا اور فساد کریں گے۔ مگر اللہ کے جواب نے فرشتوں کو لاجواب کردیا کہ “جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے”۔ اللہ نے آدمؑ کوتمام نام سکھائے اور تقریب رونمائی میں یہ طے پایا کہ جب اللہ کا حکم ہو تو تمام مخلوقات، فرشتے اور جن اس کے سامنے سجدہ رو ہو جائیں۔
وہ دن بھی آن پہنچا کہ جب آدمؑ کو سجدہ کرنے کا حکم ہوا، تو سب فرشتے اور جنات اللہ کا حکم بجا لائے سوائے عزازیل کے۔ وہ خوفناک نظارہ بھی دید کے قابل ہوگا کہ جب کسی مخلوق نے اپنے خالق کی حکم عدولی کی ہو، ساری خلقت آدمؑ کے سامنے سجدہ میں تھی مگر ایک تھا جسے شاید یہ حکم ہضم نہ ہوسکا۔ جب اللہ نے عزازیل سے اس حرکت کی وجہ معلوم کی توآدمؑ سے اسکی نفرت اور حسد نے غرور کا لبادہ اوڑھ لیا، جواب یہ دیا کہ میں آدمؑ سے بہتر ہوں۔ بہتر کبھی بھی بدتر کے سامنے اپنا سر نہیں جھکاتے۔ اپنے آپ کو بہتر سمجھنے کی یہ بیماری یقیناَ اسکی عقل کی ہی پیدا وار ہوگی، اور اپنے زہد کے گھمنڈ میں وہ یہ نہ دیکھ سکا کہ اللہ کے حکم کے آگے اپنی عقل کو ترجیح دینے میں نہ صرف وہ حکم عدولی کر بیٹھا ہے بلکہ اس نے اللہ سے شرک کر کے اپنی عقل کے حکم کو ترجیح دے دی ہے۔
تقریب رونمائی نے فرشتوں کو تو اللہ کے آگے سرخرو کردیا مگر عزازیل اب عزازیل نہ رہا، آج سے اس کا نام ابلیس رکھ دیا گیا۔ اس ڈانٹ پھٹکار سے ابلیس نے کوئی سبق نہ سیکھا نہ ہی توبہ کے دروازے کا رخ کیا ، بلکہ اپنے غرور کے نشے میں ڈوبا یہ جن اپنے خالق کی رحمت سے ہی ناامید ہوگیا، اسی لئے اس کا نام ابلیس یعنی نہایت نا امید رکھ دیا گیا۔ ہم اس جن کو انسان کے لفظ کے ہم وزن لفظ شیطان سے جانتے ہیں۔
ابلیس نے اپنے عمل کو صحیح ثابت کرنے کے لئے اللہ سے کچھ وقت معیین مانگ لیا، اور اللہ نے اسے روز قیامت کے دن تک زندگی عطا کردی۔ جس طرح ریس شروع ہونے سے آخری لمحات تک کھلاڑی کے پاس وقت ہوتا ہے کہ وہ جیت جائے یا تھک کے ہار جائے، اگر تھک کے گر بھی جائے تو بھی ریس کا خاتمہ اس وقت معیین تک ہی ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح ابلیس کو یہ آزادی عطا کردی گئی مگر کچھ شرائط کے ساتھ، جیسے کہ انسان اور جن کے مادہ تخلیق کے بنیادی فرق کی وجہ سے آگ کی لپٹ مٹی کو صرف گرما سکے گی مگر اپنی مرضی سے ہلا نہ سکے گی، اسی طرح شیطان اپنے داوٗ پیچ صرف خیالات کی حد تک ہی آزما سکے گا مگر اسے یہ طاقت حاصل نہ ہوگی کہ وہ کسی انسان کو اسکا ہاتھ پکڑ کر راہ ہدایت سے بھٹکا سکے۔
یہی وہ وقت تھا کہ جب سے ابلیس اور انسان کی دشمنی کا آغاز ہوا اور یہ تا ازل جاری رہے گا۔ ابلیس سے اپنے خیالات کی طاقت کا استعمال کر کے آدم اور حوا سلام علیہ کو ان کی جنت سے نکالا اور اصلا انسان کو اس بات کا یقین دلانا چاہا کہ ابلیس کبھی بھی انسان کا بھلا نہیں چاہے گا۔
آدمؑ سے دنیا میں انسان کی افزائش کا سلسلہ چل نکلا، ابلیس اپنا داوٗ لگاتا رہا اور انسانوں کو راہ حق سے بھٹکاتا رہا۔ آدمؑ تک تو اللہ کی براہ راست ہدایت شامل حال رہی مگر اس کے بعد جب دینا کی آبادی بڑھتی گئی تو اللہ نے دوسرا دور کا آغاز کیا اور انہی انسانوں میں سے نہایت شریف طبع انسانوں کو چن لیا اور اپنا کلام لوح محفوظ سے نقل کر کے زمان و مکان کے لحاظ سے اپنے فرشتہٗ خاص جبرائیلؑ کو اس پہ معمور کیا کہ وہ انسانوں کو ان کے بھولے ہوئے سبق کی یاد دہانی کے لئے ہدایت کے نور کی لہریں اپنے چنے ہوئے انبیاٗ اور رسولوں تک پہنچائیں تاکہ ان کی وساطت سے یہ ہدایت باقی لوگوں تک پہنچ جائے۔
مستشرقیوں کی پیش کئے گئے حوالوں کے برعکس کہ اسلام جناب محمدؐ نے ایجاد کیا، بالکل غلط ہے۔ ان کی عقل کے مطابق جو حال عیسائی مذہب اور یہود مذہب کا ہے ویسے ہی اسلام بھی ان کی نظر میں صرف ایک مذہب ہی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ جانتے بوجھتے وہ دنیا کو گمراہ کرنے کے لئے اس بات کا پروپیگنڈا کرتے رہے ہیں۔ حقیقت اس کے بر عکس ہے، اسلام دین یا مذہب نہیں بلکہ ضابطہٗ حیات ہے۔ اور ہر ضابطہ کا مرکز کسی نہ کسی ٹھوس بنیادوں پہ رکھا جاتا ہے ورنہ وہ کبھی ضابطہ نہ کہلائے۔ حیات انسانی میں یہ ضابطہ قرآن ہی ہے۔ اور اسی بنیاد کو مضبوط رکھنے کے لئے تا ابد اللہ نے اس کی حفاظت کا ذمہ لے لیا۔
ایک مجہول مسئلہ نے عالم اسلام کو گزری ہوئی صدی میں کافی پریشان رکھا، صلاطین و خلفاٗ بھی اس مسئلہ کے ہیجان سے اپنی جان نہ چھڑا سکے۔ جدید علوم کے پیرو کار نا علمی میں اپنی پٹری ہی تبدیل کر بیٹھے۔ وہ مسئلہ ہے قرآن کو مخلوق سمجھنے کا۔ اس مسئلہ کو بہتر طریقہ سے سمجھنے لے لئے ہمیں قرآن کی طبع کو سمجھنا ہوگا۔ قرآن کا نزول ہوا ہے بطریق کلام ۔ کلام کے معنی ہیں بات چیت یا خطاب۔ کلام کا مکلم کا ساتھ جو رشتہ ہے وہی اللہ اور قرآن کا ہے۔ اللہ کے صفت کلام کے عروج نے جب ایک شکل اختیار کی تو وہ قرآن بنا۔ تمام علماٗ کا اتفاق یہ ہوا کہ اللہ کی ہر صفت کا اس کی ذات باری سے تعلق ” لاعین ولا غیر” ہے، یعنی صفات اللہ کی ذات سے لازم و ملزوم نہیں کہ اگر وہ صفت نہ ہو تو اللہ نہیں یا پھر یہ کہ وہ صفت اللہ کے لئے ملزوم ہے، نعوذباللہ ۔ اللہ ان تمام قسم کی زور و زبردستی سے آزاد ہے۔ اس نےقانون بنایا ہے اور وہ بذات خود اس قانون سے بالا تر ہے۔
قرآن اللہ کا کلام اس طرح سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ کلام ہر ایک کی اندرونی کیفیئت اور اخلاق کو سامنے لے آتا ہے۔ جس طرح ہمارے مشاہدے میں یہ بات رہی ہے کہ کسی انسان کا اس وقت تک پتہ نہیں چلتا جب اس کا منہ نہ کھلے، قرین اولآ میں ایک کہاوت مشہور رہی ہے کہ انسان کا دماغ ایک پتیلی کی مانند ہے اور اس میں کیا ہے اسکا پتہ اسی وقت چلتا ہے جب وہ چیز اس کے دماغ سے نکل کر زبان کے راستے باہر آجائے۔ اس کی سوچ، اخلاق و عقل اور فکر کی پستی یا بلندی اس کے کلام سے صاف ظاہر ہو جاتی ہے۔ قرآن کی معجزانہ حیثیت آج تمام عالم پہ سورج کی روشنی کی طرح عیاں ہے۔ یا کم از کم اس درجہ میں کہ یہ اپنی اصلی حالت میں من و عن موجود ہے۔
زبان قرآن۔
لوح محفوظ کس زبان میں ہے یہ بات ابھی ہمارے علم میں نہیں، مگر اس سے لی گئی ھدایات زمان و مکان کے لحاظ سے ان زبانوں کا جامہ پہنتی رہی ہیں جو کہ اس وقت انسان کی تہذیب کی سب سے زیادہ قبولیت کی حامل رہی ہوں اور اس لئے بھی ، کہ پیغام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔ ایک اصول جو ملحوظ رکھا گیا ، وہ یہ کہ یہ سارے کلام و کتاب صرف اور صرف سامی زبانوں کی حد تک رہے ہیں۔ جو مکمن ہے کہ اللہ کے ایک بہت عزیز نبی ، جناب ابراہیمؑ ، سے کئے گئے وعدے کے مطابق ہو، کہ اب سارے نبی اور رسول انہی کے نسل سے آئیں گے۔ ابراہیمؑ سے پہلے بھی نبی اور رسول نسل سامی سے رہے ہیں جو پوری دنیا میں طوفان نوحؑ کے بعد نوحؑ کے باقی ماندہ بیٹوں میں سے ایک تھے۔ ان کے باقی تین بیٹوں ، ھام ، یام اور یافت کے حصہ میں یہ اعزاز نہیں آیا۔ قرآن سے پہلی اللہ کی کتابیں عبرانی اور ممکنہ حد تک آرامی زبان میں نازل کی گئیں۔ اور قرآن خود عربی زبان میں نازل ہوا۔ اور عربی بھی وہ کہ جسے ہمیشہ سے خالص سمجھا گیا، اور جس کو سیکھنے اور سمجھنے کے لئے عرب قبائل اپنے نوزائیدہ بچوں کو گا ٗوں اور دیہات بھیجا کرتے تھے تاکہ ان بچوں کی زبان میں کسی بھی قسم کی ملاوٹ دوسری زبانوں کی نہ ہو۔ ایک ایسی زبان جو اپنی اصلی حالت میں موجود ہو اور اس کے سامعین بھی زیادہ ہوں۔ قرآن عرب کے بادہ نشینوں کی زبان عربی میں نازل ہوا۔ اگر ہم مکان کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس وقت کے ایک نہایت اہم کاروباری مرکز یعنی مکہ میں جناب محمدؐ کا ظھور اس بات کی تائید کرتا ہے کہ پوری دنیا سے قافلے نہ صرف مکہ میں پڑا ٗو ڈالتے تھے بلکہ وہاں اپنے ملک سے لائی گئی چیزیں اور اجناس بیچتے بھی تھے، اس طرح کی جگہ احیائے دین کے لئے کتنی اہم ہوگی۔ اور اگر زبان کی اہمیت سمجھیں تو آج بھی اس شہر مکہ میں اگر آپ اپنی بات کسی سے کرنا چاہیں تو یہ عمومی طور پہ ضروری ہوگا کہ آپ کسی نہ کسی درجے میں عربی بولیں یا سمجھیں۔ یہ زبان اس وقت بھی کسی درجے میں بین الاقوامی حیثیت رکھتی تھی اور آج بھی اقوام عرب اپنے علاقائی فرق کے باوجود ایک دوسرے کی عربی زبان آسانی سے سمجھتے ہیں۔ یہ شرف اس زبان کو اسی لئے حاصل ہوا۔
مخاطب قرآن
ایک نہایت عجیب و غریب بات یہ ہے جو قرآن کی دوسری سورت میں بالکل شروع میں بتائی گئی ہے۔ مگر یہ بات بالکل بھی عجیب نہیں، مثٗلا، آج بھی کوئی کتاب، خطاب، کورس یا تعلیم کبھی بھی ایسی نہیں جس میں اسکا مخاطب نہایت واضح نہ کردیا گیا ہو۔ آپ کبھی یہ نہیں دیکھیں گے کہ ڈاکٹر بننے والے طلباٗ انجینیٗرنگ کی کتاب لئے بیٹھے ہوں۔ آپ یہ بھی نہیں دیکھیں گے کہ کمپیوٹر انجینیٗر کو پھول اور پتوں کی اقسام کے بارے میں کورس کروایا جا رہا ہو۔ قرآن چونکہ کسی ہنر کی کتاب نہیں اور اسکے مخاطب کا کسی پروفیشن سے متعلق ہونا بھی شرط نہیں ہے اور یہ تمام انسانوں کی ہدایت کے لئے نازل کی گئی ہے، بے شک ایسا ہی ہے۔ مگر ، اگر ایسا ہے تو اس اصول کا کیا کریں جو مخاطب کی وضاحت اور شرط کو مد نظر رکھتا ہے۔ اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ قرآن کسی قومیت، زبان، جسامت، رنگ، ذہنی صلاحیت یا تعلیمی قابلیت کو مخاطب کی شرط نہیں ٹھہراتا۔ بلکہ قرآن کے مخاطب ہونے کی ایک اور صرف ایک شرط لازم کی گئی اور وہ ہے تقویٰ۔ انشاٗاللہ اس لفظ تقویٰ کو ہم آگے کافی تفصیل سے پڑھیں گے۔ اس وقت یہ جاننا بہت اہم ہے کہ جس طرح کسی سائنس کے طالب علم کے لئے آرٹس کی اصطلاحات اس کے سر سے گذر جائیں گی اور بہت چاہتے ہوئے بھی وہ طالب علم ان ہدایات کا زرہ برابر بھی فائدہ نہ اٹھا سکے گا۔ اسی لئے قرآن کا مخاطب بننا اسی درجے میں ضروری ہے ، تا کہ قرآن کی بات سمجھ میں آسکے۔
زمان و مکان۔
قرآن کی تعلیمات ابدی اور مستقل ہیں، انسان نے اپنی ذہنی صلاحیت کے مطابق جب بھی اس کتاب سے رہنمائی چاہی، قرآن نے اسے مایوس نہیں کیا۔ یہ اسی کتاب کا معجزہ ٹھہرا کہ اپنے نزول سے لے کر آج کی تاریخ تک ہر دور میں اس کی رہنمائی مشعل راہ بنی ہوئی ہے۔ اگر اسی اصول کو صحیح مانا جائے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اس کی بتائی گئی نشانیاں پہلے ماننے والوں کے لئے ایک الگ پہلو بیان کریں گی اور ابھی کے دور میں الگ، اسی طرح مستقبل میں یہی نشانیاں الگ پہلو بیان کریں گی۔ اس طرح بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس کی کچھ نشانیاں اور آیات اگر پہلے ادوار میں مشکلات کا درجہ رکھتی تھیں تو آج وہ بمثل سورج نہایت صاف اور شفاف روشنی طرح ہمارے سامنے ہیں، بالکل اسی طرح کچھ آیات جو شاید ہماری عقل و شعور کے دائرے میں نہ آتی ہوں آگے آنے والے دور میں نہایت آسانی سے سمجھ لی جائیں گی۔ ایسی تمام باتیں اور نشانیاں جو آج عقل انسانی کی پہنچ سے دور ہیں ہم انہیں مشکلات قرآن کہتے ہیں۔ یہ وہ نہ سمجھ آنے والی نشانیاں ہیں جو آج کے دور کی ٹیکنالوجی کے عروج کے باوجود انسان کی دائرہ عقل و شعور سے باہر ہیں، مگر چونکہ یہ کتاب سچ اور صحیح ہے اس لئے ہمیں انتظار کرنا پڑے گا کہ کب حضرت انسان کی عقل و شعور اس درجے کو پہنچے کہ یہ مشکلات خود بخود وضاحت میں تبدیل ہو جائیں۔ اگر مثال سے سمجھا جائے تو قرآن میں ذکر ہے کہ سورج، چاند اور ستارے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں۔ آج یہ بات شاید اسکول کا بچہ بھی جانتا ہو کہ ہر سیارہ اور ستارہ اپنے مخصوص مدار میں گردش کر رہے ہیں اور خلاٗ میں تیرتے محسوس ہوتے ہیں۔ آج ٹیکنالوجی اور سیٹیلائٹ اس کی باقاعدہ تصدیق کر چکے ہیں۔ اسی سچ کو کہ جس کو چودہ سو سال سے زائد ہوچکے قرآن میں موجود ہے۔ اسی سچ کو ماننا اور ایمان لانا ان لوگوں کے لئے کتنا عجیب شمار ہوا ہوگا کہ جیسے اس وقت کی انسانی عقل و شعور کی محدودیت کی ایک دیوار نے اس سچ کو چھپا دیا ہو۔ ماضی کی وہ مشکلات قرآن آج کے دور میں ایک جانی مانی حقیقت بن چکی ہیں۔ بالکل اسی طرح آج بھی قرآن کی کچھ ایسی نشانیاں موجود ہیں کہ انسانی عقل اپنی طفلیت کی مانند کمزوری کی وجہ سے ان کو نہیں سمجھ سکتی ہے، مگر آنے والے مستقبل میں یہی نشانیاں قرآن کی معجزے کو ایک مسلم حقیقت بنا دیں گی۔
دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ قرآن کی آیات کا نزول بموقع اور بضرورت کیا گیا۔ قرآن کی آیات تورٰت کی طرح لکھی ہوئی تختی میں ایک ساتھ نازل نہیں ہوئیں بلکہ درجہ بدرجہ آیات بہ آیات نازل ہوئیں، جن میں مکان اور زمان کا دخل بہت اہم ہے، ورنہ کیا بات کب کی گئی اور اس کی معلوم وجوہات کیا تھیں، اگر یہ اصول مد نظر نہ رکھا گیا تو بظاہر مفصل آیات بھی مشکلات بن کے رہ جائیں۔
تمام علماٗ کے اجماع کے مطابق قرآن کا نزول ۲۳ برس یا کچھ زیادہ میں ہوا۔ قرآن کی اپنی آیات کے مطابق یہ پورا قرآن لیلة قدر میں لوح محفوظ سے نقل کرکے سمائے دنیاوی میں اتار دیا گیا تھا۔ اور پھر درجہ بدرجہ اسے نازل کیا گیا۔ اس بات کا بہت خیال رکھا گیا کہ کس آیت کو قرآن کی کس جگہ نقل کیا جائے۔ اسی لحاظ سے قرآن کی ترتیب نزول کچھ اور ، اور ترتیب کتاب کچھ اور ہے۔ قرآن کی آیات موقع کی مناسبت سے نازل ہوئیں اور انہیں مرتب ٹھیک اسی طرح کیا گیا جیسا کہ اللہ کا حکم ہوا۔ یہ بات بھی ذہن میں رکھنی پڑے گی کہ قرآن کی مکمل شکل دراصل لوح محفوظ کی مصدقہ نقول کی حیثیت رکھتی ہیں۔
قرآن پورا کا پورا حجاز میں نازل ہوا۔ اس کا کوئی حصہ یا آیت حجاز سے باہر نازل نہیں ہوئی۔ حجاز لفظ کا مادہ حاجز سے نکلا ہے جس کے معنیٰ پردہ کے ہیں۔ حجاز دراصل آج کے سعودیہ عرب میں واقع دو جگہوں کے بیچ میں پایا جاتا ہے۔ یہ نجد اور تہامہ کے درمیان موجود علاقے کو کہا جاتا ہے۔ مکہ، مدینہ، جدہ اور تبوک حجاز کا ہی علاقہ شمار ہوتا ہے۔ ظہور نبوت کے بعد جناب محمدؐ انہی علاقوں میں رہے اور انہی علاقوں میں آپؐ پر قرآن کی آیات کا نزول ہوتا رہا۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔۔۔