اسرارالقرآن ۔ قسط ۵

انسان اللہ کی وہ مخلوق ہے کہ جسے خود شعوری عطا کی گئی ہے، اسے ہمیشہ اس بات کی سخت ضرورت محسوس رہی ہے کہ کوئی اس کو ہر قسم کے نقصان سے بچائے اور اس طرح مدد کرے کہ اسے ہمیشہ فائدہ ہی حاصل ہو۔ یا پھر کوئی ایسا طریقہ اختیار کیا جاسکے کہ اس کا فائدہ ہی فائدہ ہو جائے۔ انسان جب اپنے ارد گرد نظر دوڑاتا ہے تو اسے اس طرح کے عوامل کارفرما نظر آتے ہیں کہ اس کی عقل یہ سوچنے پہ مجبور ہوجاتی ہے کہ یہ زمین و آسمان ، یہ سمندر اور پہاڑ ٹھیک اسی طرح کسی نہ کسی نے بنائے ہی ہوں گے جس طرح حضرت انسان نے اپنے رہنے کے لئے گھر تعمیر کئے، وقت کو جانچنے کے لئے ایک سے ایک گھڑیاں بنائیں اور سفر کو آسان بنانے کے لئے کاریں، بسیں اور یہاں تک کہ جہاز تک بنا ڈالے۔ اس اسٹیج تک پہنچ جانے پہ انسان کو اس بات کی شدت سے ضرورت محسوس ہوئی کہ وہ اس جہان کو بنانے والے کوکہیں سے ڈھونڈ نکالے اور وہی بات کہ اپنے فائدہ کی چیز معلوم کرلے۔ اگلی آیت اسی بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔ عبادت کرنے سے پہلے اس لفظ عبادت کا معنی بھی معلوم کرنا ضروری ہے۔ یہ عبد کے مادے سے نکلا ہے جو کہ بندہ کے معنی میں آتا ہے، اور عبادت بن جاتی ہے بندگی۔ یہ بندگی اصل میں اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا شکرانہ ہے۔ ہم کسی کی چھوٹی سی مہربانی کوبھی بنا شکریہ کے نہیں چھوڑتے، تو ایسا خالق و مالک کہ جس نے سانس کے لئے آکسیجن سے لے کر پیاس بجھانے کو ابر برسادیا، کیا ہم پہ اتنا بھی واجب نہیں کہ اس اللہ کا ہم شکر ادا کریں اور اس بات کی تمنا رکھیں کہ اللہ ہمیں ہر لمحہ اچھی راہ کی طرف رہمنائی کرے۔ ہم آپس میں ایک دوسرے کی مہربانی کے بدلے میں شکریہ نہ ادا کرنے والے کی غیرت کے بارے میں نہ جانے کیسے کیسے سوال تو اٹھاتے ہیں مگر ان تمام ان مول نعمتوں کے دینے والے کا شکر نہ ادا کر کے اسی غیرت کے بارے میں کچھ نہ سوچیں تو ظاہر ہے یہ بات عقل و شعور سے بالاتر ہی سمجھی جائے گی۔

اے اللہ ہمیں سیدھا راستہ دکھا، مدد مانگنے کے علاوہ جو بات اہم ہے وہ یہ کہ زندگی گزارنے کا راستہ بھی ایسا ہی چنا جائے کہ فائدہ ملنا نہ صرف آسان ہو بلکہ اس بات کی گارنٹی بھی ہو کہ ہر حال میں ہمیں کامیابی ہی نصیب ہو۔ ہمیں راستہ تو ظاہر ہے اسی سے معلوم کرنا پڑے گا کہ جس نے یہ راستے بنائے اور منزلیں بنائیں، آج بھی ہم کسی نئے شہر کا سفر شروع کریں تو وہاں کسی منزل پہ پہنچنے کے لئے ہمیں اس شہر کا نقشہ تو ہر حال میں چاہئیے۔ اگر راستوں کا علم نہ ہو تو بھٹکنا تو لازمی ہی ہے۔ اب اگر فرض کریں کہ راستہ بتانے والا کوئی اور نہیں اس شہر کا نقشہ بنانے والا ہو، تو کیا ہی بات ہے۔ کس روڈ سے گذرنا چاہئے، کس پل سے جانا چاہئیے اور کہاں موڑ لینا چاہئیے یہ سب باتیں جان لینا تو کامیابی کی آدھی تکمیل ہی ہے، بقیہ آدھی کامیابی تو ظاہر ہے کہ اس نقشے پہ پوری طرح سے عمل درآمد کرنے سے ہی ممکن ہوگی۔ (ض۲)۔

ضمیمہ ۲۔

انسان نے اپنی تاریخ میں راستہ نکالنا آخر سیکھ ہی لیا، کہیں تجربہ نے کام دیا، کہیں کسی کی راہبری نے۔ انسان نے جنگل میں بھی اپنی زندگی گزار ڈالی اور پہاڑوں پہ بھی۔ وہ وقت بھی گزر گیا کہ جب اس نے آگ دریافت کر کے ایک انقلاب برپا کرلیا اور وہ وقت بھی کاٹ لیا کہ جب اس نے بھاپ سے فائدہ اٹھانا سیکھ لیا۔ مگر جو چیز انسان کے لئے اصل معمہ بنی وہ تھی خود اس کی اور اس کے ارد گرد کے لوگوں کی عقل۔ اس معمہ نے اسے جن الجھنوں میں ڈالا ان میں سر فہرست یہ الجھن تھی کہ آدمی ایک دوسرے انسان کو آخر کیا سمجھے؟ کیا اسے اپنے سے کمتر سمجھے یا اسے اپنے برابر، یا پھر اس کو اپنے اوپر فوقیت دے۔ یہ مسئلہ اس وقت زیادہ الجھ گیا کہ جب انسان ایک جگہ جمع ہو کے ساتھ رہنے لگے۔ خاندان گائوں میں اور گائوں شہروں میں تبدیل ہو گئے۔ انسان کی آپس میں مڈبھیڑ بھی بڑھنے لگی، اور اس کو شدت سے یہ احساس ہوا کہ زندگی گزارنے کے لئیے یہ بہت ضروری ہے کہ کوئی لائحہ عمل ترتیب دیا جائے۔ جسے عوام کی مقبولیت بھی حاصل رہے اور انسان تہذیب اور تمدن کی سیڑھیاں بھی چڑھ سکے۔ یہ انسانی عقل کا ایسا امتحان ثابت ہوا کہ اسے دانتوں تلے پسینہ آگیا۔ ہر آدمی اپنےآپ کو سب سے عقل مند سمجھتا ہے تو اس کے لئے کسی اور کی بات کو مان لینا ایک بہت بڑا چیلنج بن گیا۔ اور اگر بالفرض اس نے سامنے والے کی بات مان لی تو خطرہ اس بات کا لگا رہا کہ کہیں سامنے والا دھوکا نہ دے دے اور اس کا کوئی نقصان نہ ہو جائے۔ ان نکالے ہوئے راستوں میں ملوکیت، بادشاہت اور بالآخر جمہوریت شامل تھی۔

ملوکیت اور بادشاہت کسی ایک کو اپنے سے بڑا مان کر اپنے فیصلوں کی ڈور اس کے ہاتھ میں تھما دینا ثابت ہوا، اور جب یہی نظام بادشاہت آخر کار استحصال بن گیا تو انسان نے یہ بہتر سمجھا کہ کیوں نہ جمہوری نظام کو اپنایا جائے۔ آج مہذب زدہ قومیں صرف ایک نظام کو مانتی ہیں اور وہ ہے جمہوریت۔ جس کے حقیقی معنی یہ ہوئے کہ ہر آدمی اپنی مرضی کا پوری طرح مالک ہے اور وہ اپنی صوابدید پہ جسے چاہے اپنا نمائندہ چن لے، جو اس آدمی کے روز مرہ کے مسائل کا حل نکالے۔ شیطان کا ہنر دیکھیئے کہ اس نے بادشاہت کی ہولناکیوں کو کس خوبصورتی سے جمہوریت میں تبدیل کیا کہ جو گوبر کا ٹوکرا کسی بادشاہ نے اٹھایا ہوا تھا اب ہر ایک انسان کے اوپر برابر برابر بانٹ دیا۔ یہ وہی گوبر تھا جسے ہم حق خود ارادی کے نام سے جانتے ہیں۔ ہمیں بے شک یہ حق تو حاصل ہے کہ ہم اپنی مرضی سے اپنی زندگی گزار سکیں، مگر مسئلہ تو یہ آیا کہ وہ نظام جو ہم پسند کرتے ہیں واقعی ہماری بھلائی کی ضمانت دیتا ہے یا یہ اس خالق و مالک کے بتائے ہوئے راستے سے الگ تھلگ کسی اور پگڈنڈی پہ لے جائے گا، کہ جس پہ چل کہ ہم کبھی بھی منزل پہ نہ پہنچ سکیں گے۔


Discover more from enovashan

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply