اسرار القرآن۔ قسط ۳

قسط ۳

قرآنی صحیفات۔

قرآن کے نزول کے وقت اور آج تک ہم اس بات کو متفقہ طور پہ تسلیم کریں گے کہ قرآن کو جتنے لوگوں نے پڑھا ان کے رسم الخط ، ہجے اور قرآت کے طریقوں میں کچھ نہ کچھ فرق پایا جاتا ہے۔ امت کو ایک رسم الخط پہ جمع کرنے کی خصوصی اہمیت اس وقت محسوس ہوئی جب اُپؐ کے انتقال کے بعد لوگوں نے اپنے اپنے صحیفے ترتیب دینے شروع کئے۔ مکہ و مدینہ میں جو مسلمان آباد تھے ان کو اس وقت بہت حیرت محسوس ہوتی ہوگی جب کسی دور دراز کے قبائل کے مسلمان قرآن ایک نا مانوس لہجے اور ہجوں میں قرآن کی تلاوت کرتے تھے۔ قرآن ایک ایسی زبان میں نازل ہوا ہے کہ جس میں اگر ہجوں کی زرا بھی ردوبدل کردی جا ئے تو معانی بالکل تبدیل ہوجاتے ہیں، ہم اس کی مثال خود قرآن سے دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح پچھلی امتوں سے یہودی اس بات کا کتنا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے تھے، کبھی اللہ کی بتائی ہوئی بات کو کسی دوسرے ہجے میں پڑھ کر معنی کو کہیں سے کہیں لے جاتے تھے، کہیں حطہ بن جاتا تھا حنطہ، وغیرہ وغیرہ۔

اس بات کی شدت محسوس کی گئی کہ دورہ خلافت راشدیہ میں اب جب کہ اسلام عرب سے نکل کر چاروں طرف پھیل رہا ہے تو امت کو کسی ایک صحیفے پہ یکجا ہونا چاہئے۔ کئی سارے موجودہ صحیفوں میں سے اللہ نے اپنے خلیفہ سوم جناب “عثمانؓ ابن عفان شہید معصوم” کے مرتب کردہ صحیفہ کو قبول کرلیا اور یوں تو ویسے آج تک لوگ اپنے مقامی ہجوں سے ہی قرآن پڑھتے ہیں مگر اس کی کتابت اور رسم الخط آج تک صحیفہ عثمانیؓ سے ہی مطابقت رکھتی ہیں۔

منازل و تقسیم۔

قرآن میں آیات کی تعداد چھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ  ہیں اور اس میں ایک سو چودہ سورتیں ہیں۔ قرآن کو سات منازل میں تقسیم کیا جاتا ہے، اس ترتیب کا ایک اہم فائدہ یہ ہوا کہ جو لوگ قرآن کو ایک ہفتے میں مکمل پڑھنا چاہیں تو روزانہ ایک منزل پڑھ کر یہ فیض حاصل کر سکتے ہیں۔ قرآن کی ہر آیت ایک اینٹ اور ہر سورت اس کے قلعے کی مانند لگتی ہے۔ اگر ترتیب پہ دھیان دیا جائے تو یہ بخوبی دیکھا جاسکتا ہے کہ منزلوں کی ترتیب میں یہ قلعے کی فصیل توڑی نہیں گئی، مگر اسکے برعکس پارہ بننے کی صورت میں نہ صرف مضامین کی تکمیل کا خیال موجود نہیں تھا بلکہ ساتھ ساتھ کئی سورتوں کی فصیلیں بھی توڑ دی گئیں۔ ہر پارے میں آیتوں کی تعداد کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی نے قرآن کے صفحات کو گن کر تیس حصوں میں ترتیب دے دیا۔ ہم جب یہ سعادت حاصل کرتے ہیں کہ قرآن کو معنی کے ساتھ سمجھ کر پڑھیں تو اس بات کا شدت سے احساس ہوتا ہے کہ قرآن کے جس موضوع پہ مطالعہ جاری ہے اسے کم از کم سورت مکمل کر کے ہی چھوڑیں، وگرنہ ایسی تشنگی محسوس ہوگی کہ جیسے آپ کسی مضمون کو پڑھ رہے ہوں اور کسی ضرورت کی بنا پر آپ کو مضمون مکمل کرنے سے پہلے ہی کتاب رکھنی پڑجائے۔ ذہن اور توجہ اسی مضمون کی طرف لگی رہے کہ نجانے آگے کیا ہوا اور بات آگے کس طرح بڑھی۔ قرآن کی محبت کم از کم اگر اس درجے میں ہو تو اس بات کا مفھوم سمجھ آسکتا ہے۔

ترتیب و تنظیم اسرار القرآن۔

ہم کچھ دیر میں ہی قرآن کی معنی اور مفھوم کی طرف بڑھیں گے، مگر اس سے پہلے کچھ منظم پہلو ذہن نشین کرلیں۔ ہماری ترتیب سورة الفاتحہ سے ہوتی ہوئی سورة الناس تک تکمیل کی جانب چلے گی۔ سورتوں میں خطابت کے انداز بیاں کی طرح سورتوں کے موضوعات پہ بحث کی جائے گی مگر ساتھ ساتھ ان تمام  جگہوں پہ ضمیمہ نمبر موجود ہوگا جہاں جہاں مصنف اپنی بات کو دیگر مثالوں سے واضح کرنا ضروری سمجھیں گے، تو اس کا ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ جو حضرات صرف سورة کے مطالعے میں دلچسپی رکھتے ہوں انہیں مضمون سے متعلق تفاصیل ایک ترتیب میں ملیں گی، جبکہ جو حضرات ان مضامین کے پس منظر اور پیش منظر میں دلچسپی رکھتے ہوں انہیں ضمیمہ کے طور پہ الگ تھلگ تفاصیل مل سکیں گی۔ ہم سورة کے اصل مضمون اور تشریح کو اپنی دیگر گفتگو سے آلودہ ہونے سے بچا لیں گے اور اول الذکر حضرات بنا روک ٹوک اپنے مطالعے کو جاری رکھ سکیں گے۔

ضمیموں کی موجودگی کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ ہم آج جس صدی میں رہ رہے ہیں قرآن کی ھدایت کو اس پیرائے میں سمجھنا اتنا ہی ضروری ہوگیا ہے کہ جتنا قرآن کی تعلیمات کو سمجھنا ضروری ہے۔ قرآن کی ھدایت افقی اور لافانی ہے، اسے زمان و مکان کی قید نہیں اور اس دنیا کے آخری انسان کی مخاطب بھی یہ ایک کتاب ہی ہوگی۔ میری یہ کوشش اسی پیرائے میں داخل ہے کہ اپنے مطالعے اور مشاہدے کی بنیاد پر میں اللہ کی دی ہوئی توفیق سے اپنا کچھ حصہ اس میں ڈالنے کی سعی کروں، اللہ مجھے اور آپ کو اس قرآنی ھدایت و تعلیمات کو سمجھنے اور انہی کی روشنی میں صحیح احادیث کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

میں قرآن کو اس مشعل کا درجہ دیتا ہوں کہ جس کی روشنی میں سنت نبویؐ کی شاہراہ صاف و شفاف نظر آسکے اور اگر ہم ان دونوں روشنیوں کو اپنی زندگی کے ہر پہلو پر سامنے رکھیں تو اللہ ہمیں کبھی بھی اپنے راستے سے دور نہیں کرے گا، یہ میرا عقیدہ ہے۔

سورة الفاتحہ

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا ہی رحم کرنے والا اور بڑا ہی مہربان ہے۔

یہ سورة نہ صرف قرآن کا ایک اہم ترین حصہ ہے بلکہ ایک ایسی چوٹی کی مانند ہے کہ جس پر کھڑے ہو کر آپ وادیٗ قرآن کا نظارہ کرسکیں گے۔ آنے والی تفصیلات سے ہم یہ سیکھ سکیں گے کہ یہ نہ صرف علوم قرآنی کا دروازہ ہے بلکہ ان علوم سے فائیدہ مند ہونے کا ایک ذریعہ اور شرط بھی۔

اس سورة میں جو بات سب سے اہم سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ مخاطب قرآن کون ہے؟ یا پھر جو ذی روح اس کتاب سے بہرہ مند ہونے کی کوشش کر رہا ہے اسے کیا اسلوب اختیار کرنے ہیں؟

اپنے ہر عمل کی شروعات ہمیں اللہ کے بابرکت نام سے کرنی ہے اور اسی اصول کو سکھانے کہ لئے بسم اللہ کی یہ تشکیل ہمیں ہر سورة ما سوائے ایک کے موجود ملے گی۔ یہ بتانے کہ لئے کہ میرا ہر عمل اس کے نام سے ہی شروع ہو، اور اس عمل میں مجھے میرا اللہ یاد رہے اور ساتھ ساتھ اللہ کی مدد شامل حال۔ وہ اللہ جو نہایت رحم کرنے والا ہے اور اپنی مخلوق کے لئے نہایت مہربان۔ جس اللہ کی اتنی مہربانیاں ہم پر ہوں تو ہم پر یہ واجب ہے کہ اس کی کتاب کا افتتاح اللہ کی حمد و ثناٗ سے کی جائے۔ یہ اللہ وہی الہٰ ہے جو عالمین کا رب ہے۔ ایک نہایت خوبصورت پیرائے میں یہ بات ہمارے ذہنوں میں اتار دی گئی کہ عالم صرف یہ نہیں جہاں ہم اس وقت موجود ہیں، ایک جہان وہ بھی ہے جہاں ہمیں مرنے کے کے بعد جانا ہے۔ وہ اللہ اس عالم دنیا اور عالم آخرت اور نجانے کتنے عالموں کا رب ہے۔ ہم قرآن کی روشنی سے عالم دنیا، عالم برزخ اور عالم آخرت کی موجودگی سے واقف ہو سکے ہیں۔ اور ان تمام عالموں کا وجود ہم سے مخفی ہے جن میں سر فہرست عالم جنات اور عالم ملائکہ شامل ہیں۔


Discover more from enovashan

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

Leave a Reply