All posts by enovashan

About enovashan

I’m Shujaat Ali, an IT leader, digital strategist, and creative consultant with over 24 years of experience helping organizations and individuals turn ideas into scalable, practical solutions. My background spans IT infrastructure, ERP systems, cybersecurity awareness, digital transformation, creative and copy writing, fiction writing, music production, cloud kitchen and business development, working closely with leadership teams to align technology with real business outcomes. Beyond corporate IT, I work with professionals, creators, and growing businesses to build their digital presence—through content strategy, branding guidance, automation tools, and modern web solutions. I believe technology should simplify life, not complicate it. What sets my work apart is a balanced mindset: strategic yet practical, technical yet human, structured yet creative. Through this platform, I share insights, tools, guides, cooking & music inspirations and services designed to help you: Make smarter technology decisions Build sustainable digital systems Grow professionally and creatively Stay future-ready in a fast-changing world If you’re looking for clarity, direction, and execution, you’re in the right place. 👉 Let’s build something meaningful—together.

اسرارالقرآن ۔ قسط ۵

انسان اللہ کی وہ مخلوق ہے کہ جسے خود شعوری عطا کی گئی ہے، اسے ہمیشہ اس بات کی سخت ضرورت محسوس رہی ہے کہ کوئی اس کو ہر قسم کے نقصان سے بچائے اور اس طرح مدد کرے کہ اسے ہمیشہ فائدہ ہی حاصل ہو۔ یا پھر کوئی ایسا طریقہ اختیار کیا جاسکے کہ اس کا فائدہ ہی فائدہ ہو جائے۔ انسان جب اپنے ارد گرد نظر دوڑاتا ہے تو اسے اس طرح کے عوامل کارفرما نظر آتے ہیں کہ اس کی عقل یہ سوچنے پہ مجبور ہوجاتی ہے کہ یہ زمین و آسمان ، یہ سمندر اور پہاڑ ٹھیک اسی طرح کسی نہ کسی نے بنائے ہی ہوں گے جس طرح حضرت انسان نے اپنے رہنے کے لئے گھر تعمیر کئے، وقت کو جانچنے کے لئے ایک سے ایک گھڑیاں بنائیں اور سفر کو آسان بنانے کے لئے کاریں، بسیں اور یہاں تک کہ جہاز تک بنا ڈالے۔ اس اسٹیج تک پہنچ جانے پہ انسان کو اس بات کی شدت سے ضرورت محسوس ہوئی کہ وہ اس جہان کو بنانے والے کوکہیں سے ڈھونڈ نکالے اور وہی بات کہ اپنے فائدہ کی چیز معلوم کرلے۔ اگلی آیت اسی بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔ عبادت کرنے سے پہلے اس لفظ عبادت کا معنی بھی معلوم کرنا ضروری ہے۔ یہ عبد کے مادے سے نکلا ہے جو کہ بندہ کے معنی میں آتا ہے، اور عبادت بن جاتی ہے بندگی۔ یہ بندگی اصل میں اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا شکرانہ ہے۔ ہم کسی کی چھوٹی سی مہربانی کوبھی بنا شکریہ کے نہیں چھوڑتے، تو ایسا خالق و مالک کہ جس نے سانس کے لئے آکسیجن سے لے کر پیاس بجھانے کو ابر برسادیا، کیا ہم پہ اتنا بھی واجب نہیں کہ اس اللہ کا ہم شکر ادا کریں اور اس بات کی تمنا رکھیں کہ اللہ ہمیں ہر لمحہ اچھی راہ کی طرف رہمنائی کرے۔ ہم آپس میں ایک دوسرے کی مہربانی کے بدلے میں شکریہ نہ ادا کرنے والے کی غیرت کے بارے میں نہ جانے کیسے کیسے سوال تو اٹھاتے ہیں مگر ان تمام ان مول نعمتوں کے دینے والے کا شکر نہ ادا کر کے اسی غیرت کے بارے میں کچھ نہ سوچیں تو ظاہر ہے یہ بات عقل و شعور سے بالاتر ہی سمجھی جائے گی۔

اے اللہ ہمیں سیدھا راستہ دکھا، مدد مانگنے کے علاوہ جو بات اہم ہے وہ یہ کہ زندگی گزارنے کا راستہ بھی ایسا ہی چنا جائے کہ فائدہ ملنا نہ صرف آسان ہو بلکہ اس بات کی گارنٹی بھی ہو کہ ہر حال میں ہمیں کامیابی ہی نصیب ہو۔ ہمیں راستہ تو ظاہر ہے اسی سے معلوم کرنا پڑے گا کہ جس نے یہ راستے بنائے اور منزلیں بنائیں، آج بھی ہم کسی نئے شہر کا سفر شروع کریں تو وہاں کسی منزل پہ پہنچنے کے لئے ہمیں اس شہر کا نقشہ تو ہر حال میں چاہئیے۔ اگر راستوں کا علم نہ ہو تو بھٹکنا تو لازمی ہی ہے۔ اب اگر فرض کریں کہ راستہ بتانے والا کوئی اور نہیں اس شہر کا نقشہ بنانے والا ہو، تو کیا ہی بات ہے۔ کس روڈ سے گذرنا چاہئے، کس پل سے جانا چاہئیے اور کہاں موڑ لینا چاہئیے یہ سب باتیں جان لینا تو کامیابی کی آدھی تکمیل ہی ہے، بقیہ آدھی کامیابی تو ظاہر ہے کہ اس نقشے پہ پوری طرح سے عمل درآمد کرنے سے ہی ممکن ہوگی۔ (ض۲)۔

ضمیمہ ۲۔

انسان نے اپنی تاریخ میں راستہ نکالنا آخر سیکھ ہی لیا، کہیں تجربہ نے کام دیا، کہیں کسی کی راہبری نے۔ انسان نے جنگل میں بھی اپنی زندگی گزار ڈالی اور پہاڑوں پہ بھی۔ وہ وقت بھی گزر گیا کہ جب اس نے آگ دریافت کر کے ایک انقلاب برپا کرلیا اور وہ وقت بھی کاٹ لیا کہ جب اس نے بھاپ سے فائدہ اٹھانا سیکھ لیا۔ مگر جو چیز انسان کے لئے اصل معمہ بنی وہ تھی خود اس کی اور اس کے ارد گرد کے لوگوں کی عقل۔ اس معمہ نے اسے جن الجھنوں میں ڈالا ان میں سر فہرست یہ الجھن تھی کہ آدمی ایک دوسرے انسان کو آخر کیا سمجھے؟ کیا اسے اپنے سے کمتر سمجھے یا اسے اپنے برابر، یا پھر اس کو اپنے اوپر فوقیت دے۔ یہ مسئلہ اس وقت زیادہ الجھ گیا کہ جب انسان ایک جگہ جمع ہو کے ساتھ رہنے لگے۔ خاندان گائوں میں اور گائوں شہروں میں تبدیل ہو گئے۔ انسان کی آپس میں مڈبھیڑ بھی بڑھنے لگی، اور اس کو شدت سے یہ احساس ہوا کہ زندگی گزارنے کے لئیے یہ بہت ضروری ہے کہ کوئی لائحہ عمل ترتیب دیا جائے۔ جسے عوام کی مقبولیت بھی حاصل رہے اور انسان تہذیب اور تمدن کی سیڑھیاں بھی چڑھ سکے۔ یہ انسانی عقل کا ایسا امتحان ثابت ہوا کہ اسے دانتوں تلے پسینہ آگیا۔ ہر آدمی اپنےآپ کو سب سے عقل مند سمجھتا ہے تو اس کے لئے کسی اور کی بات کو مان لینا ایک بہت بڑا چیلنج بن گیا۔ اور اگر بالفرض اس نے سامنے والے کی بات مان لی تو خطرہ اس بات کا لگا رہا کہ کہیں سامنے والا دھوکا نہ دے دے اور اس کا کوئی نقصان نہ ہو جائے۔ ان نکالے ہوئے راستوں میں ملوکیت، بادشاہت اور بالآخر جمہوریت شامل تھی۔

ملوکیت اور بادشاہت کسی ایک کو اپنے سے بڑا مان کر اپنے فیصلوں کی ڈور اس کے ہاتھ میں تھما دینا ثابت ہوا، اور جب یہی نظام بادشاہت آخر کار استحصال بن گیا تو انسان نے یہ بہتر سمجھا کہ کیوں نہ جمہوری نظام کو اپنایا جائے۔ آج مہذب زدہ قومیں صرف ایک نظام کو مانتی ہیں اور وہ ہے جمہوریت۔ جس کے حقیقی معنی یہ ہوئے کہ ہر آدمی اپنی مرضی کا پوری طرح مالک ہے اور وہ اپنی صوابدید پہ جسے چاہے اپنا نمائندہ چن لے، جو اس آدمی کے روز مرہ کے مسائل کا حل نکالے۔ شیطان کا ہنر دیکھیئے کہ اس نے بادشاہت کی ہولناکیوں کو کس خوبصورتی سے جمہوریت میں تبدیل کیا کہ جو گوبر کا ٹوکرا کسی بادشاہ نے اٹھایا ہوا تھا اب ہر ایک انسان کے اوپر برابر برابر بانٹ دیا۔ یہ وہی گوبر تھا جسے ہم حق خود ارادی کے نام سے جانتے ہیں۔ ہمیں بے شک یہ حق تو حاصل ہے کہ ہم اپنی مرضی سے اپنی زندگی گزار سکیں، مگر مسئلہ تو یہ آیا کہ وہ نظام جو ہم پسند کرتے ہیں واقعی ہماری بھلائی کی ضمانت دیتا ہے یا یہ اس خالق و مالک کے بتائے ہوئے راستے سے الگ تھلگ کسی اور پگڈنڈی پہ لے جائے گا، کہ جس پہ چل کہ ہم کبھی بھی منزل پہ نہ پہنچ سکیں گے۔

اسرارالقرآن ۔۔۔ قسط 4

اللہ بادشاہ ہے اس دن کا جس کا نام یوم الدین ہے۔ اس ضمن میں ہم اپنی پچھلی گفتگو کو اگر ذہن میں رکھیں تو یہ کائنات جب پیدا کی گئی تو ساتھ ساتھ اس کے ختم ہوجانے کا تعیین بھی اللہ نے کرلیا تھا۔ ختم ہوجانے کی یہ حقیقت ایک ایسی سچائی ہے کہ اللہ نے وہ تمام چیزیں یا مخلوق پیدا کی ہیں ان کی موت اور خاتمہ کا وقت بھی معیین کر لیا تھا۔ جس طرح “اللہ باقی، من کل فانی” کا اصول جو تھوڑا بہت بھی آج ہم سمجھ سکے ہیں اس کے مطابق اس کائنات کا ایک وقت معلوم اللہ نے طے کر رکھا ہے کہ جس میں یہ بساط لپیٹ لی جائے گی اور ہر مخلوق ٹھیک اسی طرح ناپید ہوجائے گی جیسے اپنی تخلیق سے پہلے تھی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ، جس وقت اللہ نے یہ چاہا کہ یہ کائنات اور اس میں موجود مخلوق بنائی جائے تو اس وقت جو صورت حال تھی ٹھیک اسی طرح قیامت کے دن بھی اللہ اپنے اس دائرہ تخلیق کو مکمل کردیگا۔ کیونکہ یہ وہی دن ہوگا کہ اللہ پکارے گا کہ کون ہے میرے مقابلے میں موجود؟ اور اللہ کی آواز ہی ہر جگہ سے پلٹ کر آئے گی، کوئی ذی نفس اور ذی روح اس دن موجود نہ ہوگا اس سوال کا جواب دینے کو۔

اگر ہم غور کریں کہ اس دن کو کہ جسے ہم قیامت کے نام سے جانتے ہیں الدین کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں ہی وہ راز مخفی ہے کہ جسے آج ہر انسان ڈھونڈنے میں لگا ہوا ہے کہ آخر اس دنیا اور اس کائنات کا مقصد کیا ہے؟ اگر ہم اسے اس دنیا اور کائنات کے آخری دن کی حقیقت سے سمجھیں تو بہت آسان ہوجائے گا، کیونکہ یہ دن ہی وہ اصل مقام ہے کہ شب و روز ہم اسی طرف کھنچے چلے جارہے ہیں، یہ دن ہے کہ جب سب کا حساب برابر کر دیا جائے گا۔ اکائونٹنگ کے کسی طالب علم سے بھی اگر یہ پوچھیں کہ حساب کو برابر کردینے کا کیا مطلب ہے تو وہ بآسانی اس سوال کا جواب دے سکے گا کہ حساب کا اصول اس وقت ہی صحیح بن سکے گا جب جتنا ڈالا جائے اتنا ہی نکال یا جائے۔ بیلنس کا اصول اسی طرز پہ کام کرتا ہے کہ آخر میں سب ملا کے صفر ہو جائیں۔ اور ظاہر ہے کہ اللہ اس حساب و کتاب سے باہر ایک محسب کی مستقل حیثیت رکھتا ہے۔ اور اس دنیا کا مقصد  سوائے اللہ          کی بندگی اور اس کی اطاعت کے سوا کچھ نہیں۔ ض۱۔

[ضمیمہ ۱]

انسان نے جب سے ہوش سنبھالا ہے اسے اپنے آگے پیچھے ، اوپر نیچے اس دنیا کی پھیلی ہوئی رعنائی ہی دکھی ہیں، اسے ایسا لگتا ہے جیسے کسی چھوٹے بچے کو کھلونوں کی دکان میں آکر لگتا ہے، وہ بڑی حیرانی سے ادھر ادھر رکھے کھلونے دیکھ رہا ہوتاہے، جہاں تک اس کا ہاتھ جاتا ہے اس کھلونے کواٹھا کر کھیلنا شروع کردیتا ہے، اب ایک بچے کا کھیل کیا ہوسکتا ہے، کبھی وہ اسے اٹھا کے پٹختا ہے کبھی ہوا میں اچھالتا ہے اور کبھی اسے اپنے منہ میں ڈال لیتا ہے۔ اپنی ذہنی صلاحیت سے وہ اس سے جتنا لطف اندوز ہوسکتا ہے ، ہوتا ہے۔

اللہ نے اس دنیا کو بنانے کے بعد ہی حضرت انسان کو تخلیق کیا، اس کرہٗ ارض کہ جس کی شروعات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک بڑے دھماکے سے ہوئی اور ہر طرف آگ ہی آگ اور فلکیات کے ٹکڑے ادھر سے ادھر بکھر سے گئے۔ کئی لاکھ سال تو شاید اس زمین کو ہی لگے کہ اس میں اس تپش سے پیدا ہوئی گرمی کچھ ٹھنڈی ہوئی اور وہی بخارات جو اسے اپنے گھیرے میں لئے ہوئے تھے آہستہ آہستہ پانی میں تبدیل ہوئے اور اسی مادہ تخلیق پانی سے یہاں مخلوقات پیدا ہونی شروع ہوئیں۔ پھر جب انسان اس زمین پر بھیجا گیا تو اس وقت تک اس کی مہمانی کے لئے یہاں اس کا استقبال تمام مخلوقات نے کیا۔ پہلا انسان ہی اپنے اللہ کا خلیفہ بنا کر بھیجا گیا، آدم ؑ خود ایک نبی تھے۔ اور پھر اماں حوا ؑ سے یہ دور انسانی شروع ہوا۔ آدم ؑ کو اس دنیا و ما فیہا میں موجود تمام مخلوقات ، نباتات اور اشیاٗ کا نام سکھا کے بھیجا گیا تھا، ساتھ ساتھ اس کا کیا استعمال ہوگا اس کی تعلیم بھی دی گئی تھی۔ انسان کی تعداد بڑھتی گئی، اب سب کا ایک ساتھ رہنا جب ممکن نہ رہا تو انہی اولادوں نے زمین کے دائیں بائیں کی جانب پھیلنا شروع کیا۔ جب تک اللہ کے نبی آدم ؑ ان کے جد امجد سے ان کا رابطہ رہا، سب کے سب ہی مسلمان رہے۔ مگر جب یہی تعداد زیادہ ہوئی اور انسانوں کو دور دراز علاقوں میں تلاش معاش میں پھیلنا پڑا، اور ان کے مرکز سے ان کا رابطہ آہستہ آہستہ کم ہوتا گیا تو وہ علم جو آدم ؑ نے اپنی آل اولاد کو دیا تھا اب تک وہ سینہ بہ سینہ چل رہا تھا۔

آئیے اس بات کو ایک قصہ سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

آدم ؑ کی اولاد میں سے کوئی شخص جو شاید ممکن ہو کہ دور چلے جانے والوں میں شامل تھا اور جو اپنے اللہ اور اسکے بتائے گئے اصولوں پر چلتا تھا اپنی تعلیمات اپنی نسل میں منتقل کرنے سے پہلے ہی اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ یہ وہی دور تھا جب شیطان لعین اسی انتظار میں راہ تک رہا تھا کہ کب اسے موقع ملے اور وہ اپنی کاروائی دہرائے، وہی کاروائی جو اس نے ان کے جد امجد آدم ؑ کے ساتھ کی تھی اور انہیں جنت سے نکلوا کے ہی چھوڑا تھا۔

اس شخص کی اولاد سے کے ساتھ جو ہونے والا تھا اسے جاننے کے لئے، تھوڑی دیر کے لئے ایک ایسے بچے کا تصور کیجئے کہ جو اپنے ماں باپ سے کہیں سفر میں بچھڑ گیا ہو، اس کی پریشانی ، ڈر اور بوکھلاہٹ کا کیا عالم ہوگا؟ اسے راستہ نہیں سجھائی دیتا، نہ اس کی مدد کو کوئی ذی نفس اسے دور دور تک نظر آتا ہے۔ ایسے میں ایک ڈاکو اور رہزن  ایک نیک فرشتہ کے بھیس میں آئے اور اسے اٹھا کے اپنے ساتھ لے چلے، یہ راہزن اس بچے کو حت الامکان یہ یقین دلائے گا کہ وہ اسے صحیح راہ دکھائے گا، اور اس کی منزل یعنی اس کے ماں باپ سے ملوا کر ہی دم لے گا۔ ذرا سوچئے کہ اس بچے سے ساتھ اب کیا سلوک ہوگا، اسے اپنے ماں باپ سے ملنے کی پیاس اسے مجبور کردے گی کہ وہ اس راہزن کے بتائے ہوئے راستے پر چلے۔ بچہ اپنی سمجھ کے مطابق صحیح راستہ پہ چل رہا ہوگا مگر اس کے دل میں یہ کھٹکا بھی لگا ہوگا کہ کہیں یہ فرشتہ صفت انسان جو اس کی مدد کر رہا ہے اصلیت میں کوئی راہزن نہ ہو کہ جس کا کام راہ میں بیٹھ کر لوگوں کو گمراہ کرنا اور انکو نقصان پہنچانا ہو۔

 بعینہ یہ حال آدم ؑ کی اس اولاد کا ہوا جس کا ذکر ہم نے ابھی کیا، کہ وہ باپ جو انہیں اپنے ساتھ صراط مستقیم کی طرف لےکے جارہا تھا ایک ناگہانی موت کا شکار ہو گیا اور اب اسکی اولاد راندہ درگاہ ہوگئی، اس شخص کے بچے نہ تو اتنے عقل و شعور کی عمر کو تھے کہ واپسی اپنے اس گھر کی طرف چلے جاتے کہ جہاں سے انہوں نے اپنا سفر شروع کیا تھا، اور نہ ہی آگے کا راستہ معلوم تھا کہ اپنا سفر جاری رکھتے۔ بھوک اور پیاس سے اس شخص کی فیملی کچھ دن ہی بچ پائی اور ایک دن سوائے ایک  چھوٹے سے بچے کے سب لوگ مر گئے۔ یہ چھوٹا بچہ کہ جس کی زندگی کے آغاز میں ہی اس اسکا باپ چھن گیا، کیا سیکھ کے بڑا ہوگا؟ ظاہر ہے کہ اسے پہاڑ دیو قامت جنات نظر آئیں گے اور درخت بھوت پریت۔ رات کی تاریکی میں چمکتے ستارے اسے جگنو لگیں گے یا کوئی راستہ دکھانے والے محسن، دن ہوا تو سورج کو دیکھ کے شاید وہ سجدے میں گر گیا ہوگا کہ اس نے اسے رات کی خوفناکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آیا۔ بھوک اور پیاس کی شدت سے نڈھال یہ بچہ کسی سمت چل پڑتا ہے ، کچھ آگے جا کے اسے پانی کا چشمہ نظر آتا ہے اور اسی سے متصل کچھ پھلوں کے درخت۔ اس بچے کی جان تو بچ گئی مگر آپ اس سے جا کے پوچھیں کہ اللہ کون ہے، تو اس دنیا میں کیا کرنے آیا ہے؟ تیری تخلیق کا مقصد کیا ہے؟ کیا تجھے معلوم ہے کہ تجھے کیا کرنا ہے؟

اس قصہ میں جو حال اس چھوٹے بچے کا ہوا ہے ٹھیک یہی حال اس وقت کے انسان کا ہے۔ اسے یہ نہیں پتہ کہ اس کا خالق و مالک کون ہے، وہ اس دنیا میں کیا کرنے آیا ہے، ہمارے ارد گرد جو مخلوقات کا ایک سمندر ہے ان سب کی تخلیق کا اصل میں مقصد کیا ہے؟ ہم کیا کر رہے ہیں، کہاں جارہے ہیں۔

اسرار القرآن۔ قسط ۳

قسط ۳

قرآنی صحیفات۔

قرآن کے نزول کے وقت اور آج تک ہم اس بات کو متفقہ طور پہ تسلیم کریں گے کہ قرآن کو جتنے لوگوں نے پڑھا ان کے رسم الخط ، ہجے اور قرآت کے طریقوں میں کچھ نہ کچھ فرق پایا جاتا ہے۔ امت کو ایک رسم الخط پہ جمع کرنے کی خصوصی اہمیت اس وقت محسوس ہوئی جب اُپؐ کے انتقال کے بعد لوگوں نے اپنے اپنے صحیفے ترتیب دینے شروع کئے۔ مکہ و مدینہ میں جو مسلمان آباد تھے ان کو اس وقت بہت حیرت محسوس ہوتی ہوگی جب کسی دور دراز کے قبائل کے مسلمان قرآن ایک نا مانوس لہجے اور ہجوں میں قرآن کی تلاوت کرتے تھے۔ قرآن ایک ایسی زبان میں نازل ہوا ہے کہ جس میں اگر ہجوں کی زرا بھی ردوبدل کردی جا ئے تو معانی بالکل تبدیل ہوجاتے ہیں، ہم اس کی مثال خود قرآن سے دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح پچھلی امتوں سے یہودی اس بات کا کتنا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے تھے، کبھی اللہ کی بتائی ہوئی بات کو کسی دوسرے ہجے میں پڑھ کر معنی کو کہیں سے کہیں لے جاتے تھے، کہیں حطہ بن جاتا تھا حنطہ، وغیرہ وغیرہ۔

اس بات کی شدت محسوس کی گئی کہ دورہ خلافت راشدیہ میں اب جب کہ اسلام عرب سے نکل کر چاروں طرف پھیل رہا ہے تو امت کو کسی ایک صحیفے پہ یکجا ہونا چاہئے۔ کئی سارے موجودہ صحیفوں میں سے اللہ نے اپنے خلیفہ سوم جناب “عثمانؓ ابن عفان شہید معصوم” کے مرتب کردہ صحیفہ کو قبول کرلیا اور یوں تو ویسے آج تک لوگ اپنے مقامی ہجوں سے ہی قرآن پڑھتے ہیں مگر اس کی کتابت اور رسم الخط آج تک صحیفہ عثمانیؓ سے ہی مطابقت رکھتی ہیں۔

منازل و تقسیم۔

قرآن میں آیات کی تعداد چھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ  ہیں اور اس میں ایک سو چودہ سورتیں ہیں۔ قرآن کو سات منازل میں تقسیم کیا جاتا ہے، اس ترتیب کا ایک اہم فائدہ یہ ہوا کہ جو لوگ قرآن کو ایک ہفتے میں مکمل پڑھنا چاہیں تو روزانہ ایک منزل پڑھ کر یہ فیض حاصل کر سکتے ہیں۔ قرآن کی ہر آیت ایک اینٹ اور ہر سورت اس کے قلعے کی مانند لگتی ہے۔ اگر ترتیب پہ دھیان دیا جائے تو یہ بخوبی دیکھا جاسکتا ہے کہ منزلوں کی ترتیب میں یہ قلعے کی فصیل توڑی نہیں گئی، مگر اسکے برعکس پارہ بننے کی صورت میں نہ صرف مضامین کی تکمیل کا خیال موجود نہیں تھا بلکہ ساتھ ساتھ کئی سورتوں کی فصیلیں بھی توڑ دی گئیں۔ ہر پارے میں آیتوں کی تعداد کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی نے قرآن کے صفحات کو گن کر تیس حصوں میں ترتیب دے دیا۔ ہم جب یہ سعادت حاصل کرتے ہیں کہ قرآن کو معنی کے ساتھ سمجھ کر پڑھیں تو اس بات کا شدت سے احساس ہوتا ہے کہ قرآن کے جس موضوع پہ مطالعہ جاری ہے اسے کم از کم سورت مکمل کر کے ہی چھوڑیں، وگرنہ ایسی تشنگی محسوس ہوگی کہ جیسے آپ کسی مضمون کو پڑھ رہے ہوں اور کسی ضرورت کی بنا پر آپ کو مضمون مکمل کرنے سے پہلے ہی کتاب رکھنی پڑجائے۔ ذہن اور توجہ اسی مضمون کی طرف لگی رہے کہ نجانے آگے کیا ہوا اور بات آگے کس طرح بڑھی۔ قرآن کی محبت کم از کم اگر اس درجے میں ہو تو اس بات کا مفھوم سمجھ آسکتا ہے۔

ترتیب و تنظیم اسرار القرآن۔

ہم کچھ دیر میں ہی قرآن کی معنی اور مفھوم کی طرف بڑھیں گے، مگر اس سے پہلے کچھ منظم پہلو ذہن نشین کرلیں۔ ہماری ترتیب سورة الفاتحہ سے ہوتی ہوئی سورة الناس تک تکمیل کی جانب چلے گی۔ سورتوں میں خطابت کے انداز بیاں کی طرح سورتوں کے موضوعات پہ بحث کی جائے گی مگر ساتھ ساتھ ان تمام  جگہوں پہ ضمیمہ نمبر موجود ہوگا جہاں جہاں مصنف اپنی بات کو دیگر مثالوں سے واضح کرنا ضروری سمجھیں گے، تو اس کا ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ جو حضرات صرف سورة کے مطالعے میں دلچسپی رکھتے ہوں انہیں مضمون سے متعلق تفاصیل ایک ترتیب میں ملیں گی، جبکہ جو حضرات ان مضامین کے پس منظر اور پیش منظر میں دلچسپی رکھتے ہوں انہیں ضمیمہ کے طور پہ الگ تھلگ تفاصیل مل سکیں گی۔ ہم سورة کے اصل مضمون اور تشریح کو اپنی دیگر گفتگو سے آلودہ ہونے سے بچا لیں گے اور اول الذکر حضرات بنا روک ٹوک اپنے مطالعے کو جاری رکھ سکیں گے۔

ضمیموں کی موجودگی کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ ہم آج جس صدی میں رہ رہے ہیں قرآن کی ھدایت کو اس پیرائے میں سمجھنا اتنا ہی ضروری ہوگیا ہے کہ جتنا قرآن کی تعلیمات کو سمجھنا ضروری ہے۔ قرآن کی ھدایت افقی اور لافانی ہے، اسے زمان و مکان کی قید نہیں اور اس دنیا کے آخری انسان کی مخاطب بھی یہ ایک کتاب ہی ہوگی۔ میری یہ کوشش اسی پیرائے میں داخل ہے کہ اپنے مطالعے اور مشاہدے کی بنیاد پر میں اللہ کی دی ہوئی توفیق سے اپنا کچھ حصہ اس میں ڈالنے کی سعی کروں، اللہ مجھے اور آپ کو اس قرآنی ھدایت و تعلیمات کو سمجھنے اور انہی کی روشنی میں صحیح احادیث کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

میں قرآن کو اس مشعل کا درجہ دیتا ہوں کہ جس کی روشنی میں سنت نبویؐ کی شاہراہ صاف و شفاف نظر آسکے اور اگر ہم ان دونوں روشنیوں کو اپنی زندگی کے ہر پہلو پر سامنے رکھیں تو اللہ ہمیں کبھی بھی اپنے راستے سے دور نہیں کرے گا، یہ میرا عقیدہ ہے۔

سورة الفاتحہ

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا ہی رحم کرنے والا اور بڑا ہی مہربان ہے۔

یہ سورة نہ صرف قرآن کا ایک اہم ترین حصہ ہے بلکہ ایک ایسی چوٹی کی مانند ہے کہ جس پر کھڑے ہو کر آپ وادیٗ قرآن کا نظارہ کرسکیں گے۔ آنے والی تفصیلات سے ہم یہ سیکھ سکیں گے کہ یہ نہ صرف علوم قرآنی کا دروازہ ہے بلکہ ان علوم سے فائیدہ مند ہونے کا ایک ذریعہ اور شرط بھی۔

اس سورة میں جو بات سب سے اہم سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ مخاطب قرآن کون ہے؟ یا پھر جو ذی روح اس کتاب سے بہرہ مند ہونے کی کوشش کر رہا ہے اسے کیا اسلوب اختیار کرنے ہیں؟

اپنے ہر عمل کی شروعات ہمیں اللہ کے بابرکت نام سے کرنی ہے اور اسی اصول کو سکھانے کہ لئے بسم اللہ کی یہ تشکیل ہمیں ہر سورة ما سوائے ایک کے موجود ملے گی۔ یہ بتانے کہ لئے کہ میرا ہر عمل اس کے نام سے ہی شروع ہو، اور اس عمل میں مجھے میرا اللہ یاد رہے اور ساتھ ساتھ اللہ کی مدد شامل حال۔ وہ اللہ جو نہایت رحم کرنے والا ہے اور اپنی مخلوق کے لئے نہایت مہربان۔ جس اللہ کی اتنی مہربانیاں ہم پر ہوں تو ہم پر یہ واجب ہے کہ اس کی کتاب کا افتتاح اللہ کی حمد و ثناٗ سے کی جائے۔ یہ اللہ وہی الہٰ ہے جو عالمین کا رب ہے۔ ایک نہایت خوبصورت پیرائے میں یہ بات ہمارے ذہنوں میں اتار دی گئی کہ عالم صرف یہ نہیں جہاں ہم اس وقت موجود ہیں، ایک جہان وہ بھی ہے جہاں ہمیں مرنے کے کے بعد جانا ہے۔ وہ اللہ اس عالم دنیا اور عالم آخرت اور نجانے کتنے عالموں کا رب ہے۔ ہم قرآن کی روشنی سے عالم دنیا، عالم برزخ اور عالم آخرت کی موجودگی سے واقف ہو سکے ہیں۔ اور ان تمام عالموں کا وجود ہم سے مخفی ہے جن میں سر فہرست عالم جنات اور عالم ملائکہ شامل ہیں۔

۲ اسرارالقرآن ۔۔۔ قسط

زمان و مکان ۔

قرآن کے زمان و مکان کے ضمن میں یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ قرآن کا کچھ حصہ مکہ میں نازل ہوا اور کچھ مدینہ میں، اسی طرح حجاز کے اطراف میں، مگر ایک بہت ہی اہم واقعہ جو پیش آیا اسلام کی تاریخ میں وہ تھا ہجرت۔

ہم ان تمام سورتوں اور آیات کو مکی جانتے ہیں جو کہ ہجرت سے پہلے نازل ہوا اور اس حصہٗ قرآنی کو مدنی مانتے ہیں جو ہجرت کے بعد نازل ہوا۔

طریق نزول قرآن۔

قرآن کی تنزیل کا طریقہ آیات بہ آیات اور بطریق اقساط نازل ہوا۔ یہی بات مشرکین مکہ اور مخالفین کے لئے ایک منطق بن گئی کہ چونکہ یہ قرآن اللہ کا کلام نہیں بلکہ جناب محمدؐ اسے خود اپنی طرف سے گڑھ لائے ہیں، نعوذباللہ۔ اسی لئے ہمیں، جتنا بن پاتا ہے لا کے سنا دیتے ہیں اور پھر کچھ مزید ریاض کرتے ہیں پھر کچھ جمع کرتے ہیں اور بعد میں سناتے ہیں۔ اور چونکہ قرآن کا طریق بہت حد تک انکو شاعری سے ملتا جلتا لگتا تھا تو ظاہر ہے کوئی شاعر بھی اپنا پورا کلام ایک ساتھ تو پیش کر نہیں سکتا تو یہ بھی اسی طرح تھوڑا تھوڑا جمع کر رہے ہیں اور پھر ہمیں سنانا شروع کردیتے ہیں۔ نعوذوباللہ۔ دیکھا جائے تو یہ ایک ایسا الزام تھا جو اگر عقل سے سوچا جائے تو بڑا صحیح معلوم ہوتا ہے۔ مگر قرآن خود اس الزام کا جواب ایسا دیتا ہے کہ مشکرین مکہ سے لے کر آج کی تاریخ کا بڑے سے بڑا ملحد اپنی زبان اس جواب کے آگے نہیں کھول سکا۔ جواب بڑا سادہ ہے۔ اگر تمہارے مطابق یہ قرآن اللہ کی طرف سے نہیں آیا بلکہ کسی شاعر، کاہن، جادوگر اور مجنون کا کلام ہے، نعوذوباللہ، تو ذرا اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگا لو اور ایک سورت ہی اس جیسی بنا لائو۔ اچھا بڑا مشکل لگ رہا ہے، آدھی سورت ہی بنا لائو، تو اگر اس کی بھی اوقات نہیں لگ رہی، چلو ایک آیت ہی لے آئو۔

معجزہ قرآنی دیکھئے کہ یہ چیلنج قرآن میں آج بھی موجود ہے اور ملحد و کفار کی زبان آج بھی بند۔

اب اگر تنزیل کے معنیٰ کی طرف آئیں تو یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ کلام ایک ساتھ نازل نہیں ہوا بلکہ تھوڑا تھوڑا کر کے جناب محمدؐ پر نازل ہوا۔ جس طرح عربی کے لفظ “انزال” کا تعلق ایک دوسرے لفظ “اعلام” کے وزن پہ ہے، کہ اعلام کا مطلب کسی کو کوئی بات بتا دینا اس طریق پہ کہ بات ایک ساتھ ایک وقت میں سب حاضرین کو بتا دی جائے اعلان کی طرح۔ جس کا مقصد صرف اور صرف بات کا پہنچا دینا ہو، اس سے مطلب نہ ہو کہ آیا سامنے والے کو یہ بات سمجھ بھی آئی کہ نہیں۔ ایک اعلان ہوا جس نے سنا سن لیا، جو نہ سن سکا وہ دوسروں سے معلوم کرتا پھر رہا ہے۔ قرآن ایک ساتھ نازل نہ ہونے کی بہت ساری وجوہات کے ساتھ ساتھ یہ ایک بڑی وجہ بھی بنی، اس کو بتا کے آگے نہیں بڑھنا ہے بلکہ اس کو اتارنے کا مقصد کیونکہ کچھ اور ہی ہے تو اس کا طریق اعلام یا انزال کے طور پہ نہیں ہے۔ اب آئیے لفظ تنزیل پہ، تو اسی پہلی مثال کی طرح اس کا وزن بنتا ہے لفظ “تعلیم” پر۔ اور یہ بات سب جانتے ہیں کہ تعلیم کا طریق کار کیا ہے۔ جسے یہ تعلیم دی جارہی ہے اسے سکھانا مقصود ہے نہ کہ بتا کے آگے بڑھ جانا۔ تو آپ یہ دیکھیں گے کہ تعلیم کے طریقے میں بات کو بڑی آسان انداز میں شروع کیا جائے، اتنا ہی بتایا یا سکھایا جائے کہ جتنی سامنے والے کی استطاعت ہو۔ آج صرف ایک بات بتائی جائے، کل کچھ بہتری معلوم ہو تو مزید دو باتیں بتائی جائیں۔ اسی طرح تعلیم اپنے درجات مکمل کرتی ہوئی آگے بڑھے۔ قرآن کا طریقہ بھی ایسا ہی ہے، یہ متکلم یعنی جس سے کلام کیا جارہا ہے اسے اس ہدایات کا لاد دینا مقصود نہ ہو بلکہ اسے سکھانا اور سمجھا دینا اس کا اصل مقصد ہو۔

سلسلہٗ ترسیل۔

قرآن کے لوح محفوظ سے نقل ہوکر سمائے دنیاوی پہ آجانے کہ بعد ایک فول پرف سسٹم کے تحت اسے جناب محمدؐ تک پہنچایا گیا۔ اسے قرآن خود بیان کرتا ہے کہ یہ پہلے کلام اللہ بنا اور سونپا گیا جبرٰئیلؑ کو۔ یہ فرشتہٗ عالی جو کہ خود امین اور سردار ملائک ہیں اسے لے کر آئے جناب محمدؐ کے قلب مبارک پر، تو یہ بن گیا قول جبرٰئیلؑ۔ قرآن میں ہم اسی ریفرینس کو دیکھیں گے کہ اسے کلام اللہ بھی کہا جارہا ہے اور قول جبرٰئیلؑ بھی۔

اب لوح محفوظ، جو کہ اس کے نام سے ظاہر ہے کہ وہ جگہ انتہائی محفوظ ہے، قرآن نقل کر کے سمائے دیناوی یعنی وہ پہلا آسمان جو کہ دنیا کے اوپر موجود ہے وہاں اسے رکھا گیا اور بطریق تنزیل اسے قلب محمدیؐ پہ اتارا جاتا رہا۔ اب لازم تھا کہ اس فول پروف سیکیورٹی کے تحت مضبوط انتظام یہاں بھی کئے جائیں۔ تو شہاب ثاقب کے میزائل سسٹم کی تنصیب ہوئی۔ شیاطین جنات، جن کے لئے ان کی اپنی فطری حالت کی وجہ سے آسمان اور کہکشاں میں گھومنا پھرنا تو بڑا آسان تھا، اور ان کی یہ بڑی کوشش رہی کہ کلام اللہ کی کچھ باتیں، کچھ راز اور نشانیاں چرا کے لے جائیں۔ تو اللہ کا یہی شہاب ثاقب کا میزائل سسٹم اب ان کے پیچھے دوڑتا تھا اور انکو کامیاب نہیں ہونے دیتا تھا، ہم آج کے زمانے میں ایسے میزائل سے واقف ہیں جو حرارت کا پیچھا کرتے ہوئے اپنے نشانہ کو جا دبوچتے ہیں، اسی طرح شہاب ثاقب کلام اللہ کی فول پروف سیکیورٹی بن گئے اور جب تک قرآن کی تنزیل واقع ہوتی رہی اس سسٹم کو خاص اسی مقصد کے لئے استعمال کیا گیا۔

ناسخ ومنسوخ۔

قرآن کو مخلوق سمجھنے کے مسئلے کے بعد ایک اور چیز نے منکر قرآن اور منکر احادیث کو شش و پنج میں مبتلا رکھا، وہ تھا کسی آیت کو منسوخ سمجھنا۔ اب اگر تھوڑی سی بھی عقل کو استعمال کیا جائے تو یہ بات بہت ہی آسانی سے سمجھ آسکتی ہے کہ جب بھی کوئی کتاب لکھی جائے تو مختلف درجات میں کسی پچھلی بات کو مزید سمجھانے کے لئے اسے تدریجا سمجھایا جائے گی، ورنہ تعلیم کا اصل مقصد تو فوت ہوجائے گا۔ مثلا اگر ہم کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے بارے میں کوئی ڈگری لینا چاہیں تو کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ ہم کمپیوٹرکے حصے کے بارے میں جاننے سے پہلے ہی سیدھا مائیکرو چپ پہ چلے جائیں گے؟ ایسا ہرگز نہیں، پہلے آپ سمجھیں گے کہ کمپیوٹر کا ڈبہ یعنی “سی پی یو”  ہی اصل کمپیوٹر ہے، مگر جس طرح آپ آگے بڑھیں گے آپ کو پتہ چلے گا، جی نہیں ! اس ڈبے میں ایک خاص چیز ہے جو اصل کمپیوٹر ہے، اور اسے کنٹرول یونٹ کہا جاتا ہے۔ ابھی آپ شاید یہ پوری طرح سمجھ ہی پائے ہوں، آگے مزید بات چلتی ہے، کہ نہیں !! کنٹرول یونٹ کے اندر جو مائیکرو چپ ہے اور اس کے بھی اندر جو سیمی کنڈکٹرز کا جال بچھا ہے اصل کمپیوٹر تو وہ ہے۔

اب کوئی اگر اپنی اسی کلاس میں کھڑا ہو کے چلانا شروع کردے، بھائی اب تک جو ہم نے پڑھا تھا کہ “سی پی یو”  ہی کمپیوٹر ہے، پھر استاد فرماتے ہیں اس کے اندر کنٹرول یونٹ ہے وہ کمپیوٹر ہے ، اور اب آپ فرما رہے ہیں کہ سیمی کنڈکٹرز اصلا کمپیوٹر ہیں، تو یہ ثابت ہوا کہ اس سے پہلے کی ساری تعلیم ناسخ و منسوخ ثابت ہوئی؟

جن طلباٗ کو تھوڑا بہت بھی کمپیوٹر سے وافقیت ہو چکی ہوگی وہ یقینا اس کی بات پہ قہقہ لگا کے ہنسیں گے۔ شاید اس کو سمجھانے کی کوشش بھی کریں کہ اگر آپ کو سیدھا سیمی کنڈیکٹر پڑھاتے تو آپ کو خاک سمجھ آتا کہ کمپیوٹر صرف سیمی کنڈیکٹر ہی نہیں ہے، کنٹرول یونٹ اور یہاں تک کہ “سی پی یو”  بھی کمپیوٹر ہے۔ مگر تعلیم کے لئے پہلے آسان چیز سمجھائی جاتی ہے اور مشکل چیزیں بعد کے لئے رکھی جاتی ہیں، مگر اسکا ہر گز مطلب یہ نہیں کہ اب تک پڑھا اور سیکھا سب بیکار ہے۔ مگراب جب آپ یہ جان چکے ہیں کہ سیمی کنڈیکٹر ہی کمپیوٹر کی اصل شکل ہے تو اب پچھلی تمام اصطلاحات کو سمجھنے کی حد تک رکھیں، اس پہ حد جاری نہ کریں۔

یہی مثال ناسخ و منسوخ کی ہے، قرآن اسے خود سمجھاتا ہے کہ ہم کسی آیت کو منسوخ نہیں کرتے جب تک کہ اس کی جگہ اسی سے ملتی جلتی مزید تشریح والی آیت یا پھر اس سے بہت بہتر آیت نہ اتار دیں۔ اب اگر آپ قرآن کی مثال لیں تو پہلے حکم آیا، جب شراب پیو تو نماز کے قریب مت جائو، ایک نہایت لطیف انداز میں یہ بتایا کہ سمجھ لو جس طرح نماز میں پاکی ایک اہم فرض ہے تو تمہیں اسی لئے منع کیا جارہا ہے، شراب کو نجس سمجھو اور باز آجائو۔ پھر بڑا کھلم کھلا طریقہ سے قرآن میں آیا کہ یہ حرام ہے۔ یہاں نہ صرف ترتیب زمان کی اہمیت سامنے آتی ہے کہ پہلے کیا بتایا گیا اور بعد میں کیا، ساتھ ساتھ یہ اہمیت بھی سمجھ آئی کہ شراب صرف نماز کے پڑھنے کے لئے ہی نہیں ہر وقت کے لئے حرام مطلق ہے۔ اب ہمارے لئے پہلی بات اشارہ ثابت ہوئی اور آخری بات ایک حکم۔

اہمیت مضامین و احکام۔

قرآن میں دئے گئے احکام اور مضامین اس سنہری اصول پہ کام کرتے ہیں جو ہم اپنی روز مرہ زندگی میں دیکھتے ہیں، یعنی کسی اہم بات کو بار بار بتانا، الفاظ و ترتیب الگ الگ کرکے سمجھانا۔ قرآن میں بھی ہر اہم بات کم از کم دو دفعہ ضرور آئی ہے۔ اس سے قرآن دو اہم پہلو سامنے آتے ہیں۔ پہلا کہ یہ بات جو دہرائی جارہی ہے اسے اہم سمجھا جائے، دوسری یہ کہ اگر یہ بات پہلی دفعہ صحیح سے سمجھ نہ آسکی ہو تو اب اسے کسی دوسرے پہلو سے سمجھایا جارہا ہے۔ اپنے ذہن میں یہ بات ضرور رکھیں کہ قرآن اپنی ہدایات کو تعلیم کا درجہ دیتا ہے اور تعلیم میں آپ پہلے اگر پرائمری کلاس میں ہوتے ہیں تو بعد میں سیکنڈری کلاس میں۔ پڑھتے پہلے بھی سائنس ہیں اور ظاہر ہے بعد میں بھی سائنس ہی پڑھتے ہیں، مگر یہ تکرار اور وضاحت ہی تو اصل میں تعلیم کا حصہ ہے۔ اگر دیکھا جا ئے تو قرآن تعلیم و تربیت اور احکام کی ترسیل کو بتمام حجت تکمیل کرتا نظر آتا ہے۔ تا کہ کل کو کوئی یہ دعویٰ نہ کر سکے کہ اتنی اہم بات سمجھائی کیوں نہ گئی بار بار۔

ہاں یہ بھی کہ ہم ان آیات کو کسی درجہ میں نعوذباللہ کم تر نہیں مان سکتے کہ اس کی تکرار قرآن میں موجود نہیں تو یہ شاید اہم نہ ہوں۔ بلکہ کہیں کہیں اگر اللہ کی قدرت ہمیں ایک شفیق استاد کی حیثیت سے نظر آتی تو کہیں یہی قدرت ایک جلالی کیفیٗت میں بھی بدل جاتی ہے۔ ہم اکثر اپنے چھوٹوں کو کوئی بہت اہم بات صرف ایک بار سمجھاتے ہیں، اور اگر عمل اسکے خلاف پائیں تو پھر یہی شفقت ایک سزا میں بھی تبدیل ہو جاتی ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ سزا دینے کے بعد بھی اپنا رویہ ہمیشہ کے لئے سخت نہیں کرتے۔ اللہ کی شان رحمانی اور شان جلالی اور پھر شان غفاری اسی محبت کا کھلا ثبوت ہے جو وہ ہم سے ستؑر مائوں سے بھی زیادہ کرتا ہے۔

اسرارالقرآن ۔۔۔ قسط اول

تعارف۔

۔۱ ، رمضان 1438، بمطابق ۲۷ مئی 2017

میرا تعارف اس بلاگ میں ابھی موجود نہیں ہے، بہت جلد انشاٗاللہ میں اس سیکشن کی تکمیل کروں گا۔ درج ذیل تعارف اس شخصیت کا ہے کہ جس کے حب قرآن نے نہ صرف مجھے بہت زیادہ متاٗثر کیا بلکہ مجھے اس بات پہ بھی آمادہ کیا کہ ان کے مشہور زمانہ دورہ قرآن کو میں متعدد بار سنوں اور کچھ نتائج اخذ کرسکوں۔ میں بحیثیت مسلمان اس بات کو اپنا فریضہ سمجھتا ہوں کہ قرآن کو نا صرف سمجھوں، اس سے نتائج برآمد کروں، بہت اہم یہ کہ اس کو اپنی زندگی کی ہدایت کا راستہ بنائوں، بلکہ ساتھ ساتھ اپنی تقریباً دو دہائی پہ مشتمل درس و تدریس کی جو  صلاحیت بھی اللہ نے مجھے دی اس کو استعمال کروں۔  میں ہرگز اس بات کا دعویٰ نہیں کرسکتا کہ یہ نتائج جو میں نے اخذ کئے ہیں وہ صد فی صد صحیح ہی ہوں گے، بلکہ جس طرح قرآن کو بار بار پڑھنے سے اس کے اسرار و رموز مزید کھلتے ہیں اسی طرح میں اپنے آپ کو ایک طالب علم کی حیثیت جان کہ اس بات کی حد الامکان کوشش ہی کرسکا ہوں۔ اپنے قاریوں سے بھی میں یہی گذارش کروںگا کہ اس کوشش میں میرا ساتھ دیں اور مثبت انداز میں ممکن غلطیوں کی طرف وہ مجھے متوجہ کریں۔ آخر کار اس پوری محنت کا اصل و اصل مقصد قرآن کو سیکھنا اور سکھانا ہے انشاٗاللہ۔

درج ذیل شخصیت بر صغیر پاک و ھند میں کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں، میں وکیپیڈیا پہ موجود ان کے مختصر مگر جامع تعارف پہ اکتفاٗ کروں گا۔

ڈاکٹر اسرار احمد ایک ممتاز پاکستانی مسلمان سکالر تھے، جو پاکستان، بھارت، مشرق وسطیٰ اور امریکہ میں اپنا دائرہ اثر رکھتے تھے۔ آپ بھارت کے ضلع ہریانہ میں مؤرخہ 26 اپریل، 1932ء کو پیدا ہوئے۔

آپ تنظیم اسلامی کے بانی تھے، جو پاکستان میں نظام خلافت کے قیام کی خواہاں ہے۔ تنظیم اسلامی کا مرکزی ہیڈکوارٹر لاہور، پاکستان میں واقع ہے۔

آئیے ہم اپنے بلاگ کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے اللہ کے حضور دعا کرتے ہیں کہ اللہ ہمیں قرآن کی صحیح سمجھ عطا فرمائےاور اس پر اپنی زندگی کو ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے اور آخرت میں اسی قرآن کو ہماری نجات کا ذریعہ بنائے۔ آمین، ثم آمین۔

قرآن کے بارے میں ۳ اہم عقیدے

 ۔ اللہ کا کلام

۔ محمد ؐ پر نازل ہوا

۔ جب سے نازل ہوا من و عن محفوظ ہے

قرآن خود ایک اہم کتاب کا ایک جز ہے، جسے لوح محفوظ کہا گیا ہے۔ قرآن سے پہلے نازل ہونے والے سب صحیفے اور کتابیں بھی اسی لوح محفوظ سے ہی لی گئی ہیں۔

اللہ کا علم جو کہ قدیم ہے اور اتنا وسیع ہے کہ اس علم کو مکان اور زمان کی کوئی قید نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زمان اور مکان دونوں مخلوق کے لئے بنائے گئے ہیں اور ظاہر ہے کہ جب اللہ ہی سب چیزوں کا خالق و مالک ہے تو اگر زمان اور مکان اس کے لئے بھی ایک رکاوٹ بن جائیں تو پھر وہ نہ تو اس کا خالق ہوا نہ ہی اسکا مالک، اسی لئے ایسا ہرگز نہیں اور یہ اس کی شان سے بالاتر ہے کہ وہ بھی عام مخلوق کی طرح مکان اور زمان کی قید میں رہے۔ یہ بھی ایک وجہ ہے کہ مخلوق کی قسمت میں عمر اور عمر درازی ہے، نیند ہے کہ اس کے دماغی خلئے زیادہ بنائے جائیں اور پھر آخری سیڑھی موت، جبکہ وہ ذات نہ تو اونگھتی ہے نہ اس کی عمر میں کوئی فرق پڑتا ہے، اور نہ ہی اسے موت کا کوئی ڈر۔

لوح محفوظ بھی اللہ کی علم قدیم کا ایک ثبوت ہے۔ جس میں سے اخذ کی گئی کتابیں اور صحیفے اقوام کی مناسبت سے اور ان کی زمانی حاجات کے لئے حل اور راہ ہدایت دیتی آئی ہیں۔

اور قرآن کی کئی ایک معجزوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ آخری کتاب ہے جو انسان کی ھدایت کے لئے نازل ہوئی اور اپنی شان میں یہ خود مکمل راہ ہدایت ہے۔

اگر اس بات کو اس طرح سمجھا جائے کہ ایک گاڑی بنانے والا انجینئر جب اپنی گاڑی بنالیتا ہے تو اب اس کو استعمال کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی ایسا طریقہ استعمال کرتا ہے کہ وہ دوسروں کو بتا سکے کہ اس گاڑی کو کیسے استعمال کیا جائے؟ اس گاڑی کو استعمال کرنے میں کیا کیا جائے، کیا نہ کیا جائے۔ اس گاڑی کے لئے کیا صحیح ہے اور کیا غلط ۔ اس کو وہ اگر کتابی شکل دیدے تو ظاہر ہے اسے اس بات کا بھی خاص اہتمام کرنا پڑے گا کہ اس کتاب میں موجود تمام ہی ہدایات اپنی جگہ موجود رہیں اور ان میں کسی قسم کا کوئی ردو بدل نہ کیا جاسکے۔

اگر آج کوئی اس انجینئر سے یہ پوچھے کہ اس گاڑی کا مقصد کیا ہے؟ تو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ہر سننے والا اس سوال کا کیا مذاق بنائے گا۔

ہاں صرف اس صورت میں یہ سوال صحیح ہوتا کہ کسی غار میں رہنے والا شہر کے تمدن میں داخل ہو، وہ اپنے ارد گرد موجود ہر چیز کو نہ صرف حیران و پریشانی سے دیکھے گا بلکہ شاید یہ سوچنے پہ بھی مجبور ہوجائے کہ یہ سب شاید نہایت ہی بے مقصد ہے۔ اسکا اپنا ہر کام تو باآسانی پتھر اور لکڑی کے اوزاروں سے ہو ہی جاتا ہے تو ان سب چیزوں کی آخر کیا ضرورت اور مقصد ہے؟

ہم اگر اپنے خالق و مالک کو سمجھنا چاہیں تو شاید اسکی مثال ایسی ہی ہو کہ نرسری میں پڑھنے والا بچہ کہکشاں کے رازوں کو سمجھنے کی کوششیں کرنا شروع کردے، اس کا استاد اسے صرف یہ سمجھا سکے گا کہ اس بچے کی ذہنی صلاحیت ابھی اس قابل نہیں کہ وہ یہ سب باتیں جان سکے اور سمجھ سکے۔

اللہ نے یہ دو عالم دو حصوں میں بانٹ دیا ہے، ایک کوعالم امر کا نام دیا اور دوسرے کو عالم خلق کا نام۔

اپنے پاس اللہ نے عالم امر کو رکھا ہے اور اپنی مخلوق کے لئے عالم خلق۔ آج اس دور میں ہم معلومات کے ایک سمندر میں غوطہ زن ہونے کے باوجود بھی اپنے آپ کو ایک طفل سے زیادہ نہیں سمجھتے ، کیونکہ سائنس کی ایجادات اور عالم خلق کی دریافت آج بھی ہمیں یہی بتاتی ہے کہ یہ دنیا ابھی بھی خلقیت کے دور سے گذر ہی رہی ہے اور آج کا کوئی انسان یہ دعویٰ نہ کرسکے گا کہ اس نے اپنے علم کو مکمل کرلیا ہے۔

اللہ کے عالم امر میں ہر ایک کام صرف اللہ کے لفظ “کن” سے تعبیر ہے، اور اللہ کے عالم خلق میں ہر کام زمان و مکان کی قید میں ہے۔ یہ فرق اس لئے بھی سمجھنا ضروری ہے کیوںکہ انسان بہت سی خواہشات کی تعبیر کو جلد سے جلد پانا چاہتا ہے اور یہ بھول جاتا ہے کہ اس کی دسترس عالم خلق سے آگے نہیں ہے۔

اب ہم اپنے اسی انجینئر کی مثال پہ واپس آئیں تو اس انجینئر کو اپنی نئی کار کو بیچنے اور اس کو استعمال کرنے میں اپنے ان خاص لوگوں کی ضرورت ہوگی جو کہ ملک ملک گھوم کے لوگوں کو اس کار کے بارے میں بتائیں اور خواہش مند لوگوں کو اس کار کے استعمال کی تربیت دے سکیں۔ یہاں یہ انجینئر تو عالم خلق کے اصولوں کا پابند ہے کہ وہ ہر جگہ ہر وقت موجود نہیں رہ سکتا اسی لئے وہ مجبور ہے کہ اپنے ان خاص لوگوں کی مدد حاصل کر سکے۔

اللہ نے بھی اپنے بنائے ہوئے اصول کے مطابق عالم خلق میں اپنے چنے ہوئے لوگوں کو اسی بات پہ معمور کیا کہ وہ جس جگہ مبعوث کئے جائیں اللہ کی بھیجی ہوئی ہدایات لوگوں کو پہنچا دیں اور خواہشمند لوگوں کو باقاعدہ تربیت دیں۔

ہم اس دنیا اور اسکی مشکلات کو اس طرح زیادہ بہتر طریقے سمجھ سکتے ہیں کہ آپ ایک امتحان کے ہال کا تصور کریں کہ جہاں امتحان دینے والے اپنی اپنی نشست پہ موجود اپنا اپنا پرچہ حل کر رہے ہیں۔ ممتحن ہال میں موجود طالب علموں کو نہ صرف پرچہ میں آنے والے سوال کا حل سجھا رہا ہے بلکہ کچھ اساتذہ کو بھی ہال میں بھیج کر ان طالب علم کی مدد بھی کر رہا ہے جو سوالات کی مشکلات میں حیران و پریشان بیٹھے ہیں، آپ کچھ طلباٗ کو ایک دوسرے کی نقل کرتے ہوئے بھی دیکھیں گے، کچھ طلباٗ اپنا پرچہ چھوڑ چھاڑ کے کسی اور کام میں مشغول بھی نظر آئیں گے۔ اور انہی طلباٗ میں کچھ ایسے بھی ہوں گے جو اپنے نظر نہ آنے والے ممتحن کا صاف انکار کریں گے، دوسروں کو بھی یہی سمجھائیں گے کہ کن کاموں میں لگے ہو، جب تک اس ہال میں موجود ہو زندگی جیو، کن مشکلات میں یہ وقت ضائیع کر رہے ہو۔ آپ یہ بھی دیکھیں گے کہ کچھ طلباٗ اپنا پرچہ مکمل کرنے کے بعد ہال سے جاچکے ہوں گے۔ آپ یہ بھی صاف دیکھ سکیں گے کہ ہال میں موجود اور چلے جانے والے طلباٗ کو ان کا نتیجہ ابھی نہیں دیا گیا، کیونکہ ابھی شاید وقت امتحان ختم نہیں ہوا۔ مگر اگر تھوڑی سی بھی عقل لڑائیں تو یہ سمجھنا بہت آسان ہوگا کہ ان طلباٗ کا نتیجہ بہر حال نکلے گا ہی، بظاہر ابھی بھی وقت امتحان باقی ہے مگر ایک نہ ایک دن نتیجہ کا دن ضرور آئیگا، ورنہ اس سارے امتحان ، ان اساتذہ اور ان مشکلات کا آخر کیا فائدہ ؟ اور شاید پھر اس امتحان گاہ کا وجود اور اس امتحان کا وقوع پذیر ہونا تو سرے سے بے مقصد ہی ہوا۔

اسی طرح سے ہمیں یہ سمجھ لینا چاہیئے کہ یہ دنیا ، اس کی مشکلات اور اس کے امتحانات بھی بے مقصد نہیں، اس کا خالق ایک وقت معیین تک ہمیں آزما رہا ہے کہ ہم اس امتحان میں کیا کرتے ہیں، کیا ہم اس امتحان گاہ میں رہ کر اپنے لئے متاع آخرت جمع کرلیتے ہیں یا اپنے آپ کو دھوکے میں رکھ کے خالی ہاتھ ہی چلے جاتے ہیں۔

اب تک ہم یہ سمجھ چکے کہ یہ دنیا، اسکے کارخانے اور یہ امتحان گاہ اپنے آپ ہی وجود میں نہیں آگئی، بلکہ کوئی یقیناَ اس کا خالق ہے، اور یہ کہ اس دنیا کو سمجھنے اور اس دنیا کو گزارنے کے لئے ہمیں کسی نہ کسی گائیڈلائن کی ضرورت تو ہے، کوئی ایسی چیز جو ہمیں اس دنیا کو سمجھنے کی، اس کے مقصد کی اور ہمارے یہاں آنے کے مقصد کی نشاندہی کرے۔ یہ ہدایت نامہ قرآن ہے۔

پس منظر

اللہ نے دو عالم کی تخلیق کے بعد عالم خلق کو اپنے حسن و روشنائی سے جگمگانے کے لئے سب سے پہلے تخلیق فرمائی فرشتوں کی، جو کہ نور سے پیدا کئے گئے۔ ان کے ذمے بہت سے الگ الگ کام لگائے گئے، کچھ کے ذمے ہوائیں چلانا طے ہوا، کچھ اللہ کے عرش کو تھام کے کھڑے ہوئے اور کچھ اللہ کے علم قدیم یعنی لوح محفوظ کی نگرانی پہ مامور ہوئے۔ ان تمام فرشتوں میں سراپا عبدیت اور فرمانبرداری بھر دی گئی۔ ان فرشتوں کا کام اللہ کے ہر حکم کو اپنا مقصد حیات بنالینا ٹھہرا۔ خالق کی کسی خواہش یا حکم کو یہ ٹال نہیں سکتے۔ اسی لئے مقرب بنا لئےگئے تاکہ انتظام کی باگ ڈور انہی کے ھاتھوں میں دی جائے۔

پھر اللہ نے دنیا اور آسمان کی تخلیق فرمائی، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیاروں، ستاروں اور سورج کی تخلیقات کے بعد سورج کی آگ کی لپٹ سے اللہ نے جنات کی تخلیق فرمائی۔ یہ مخلوق بنا دھوئیں کی آگ سے تخلیق فرمائی گئی۔ زمین و آسمان میں ان کا گزر بہت آسان بنا دیا گیا، جیسے آج ہمارے راکٹ اور خلائی جہاز تیل کی توانائی کو استعمال میں لا کر چاند کی دھول چاٹ آئے ہیں۔ یہ خاص توانائی ان جنات میں قدرتی طور پہ ودیعت کر دی گئی۔ جس سے ان کے لئے زمین و آسمان کو لمحات میں پار کرلینا ممکن ہو سکا۔ یہ مخلوق پہلی مخلوق سے تھوڑی الگ تھی، اس میں اللہ نے خود ارادی کی طاقت عطا کردی۔ اب اللہ کا حکم فرشتوں کی طرح آنکھ بند کرکے ماننے کے بجائے جنات کے پاس یہ مرضی کا عنصر شامل ہوگیا۔ یہیں سے سزا اور جزا کے بیج پڑ گئے۔ اللہ کا حکم ماننے سے جزا کا اور نہ ماننے پہ سزا کا مستحق بنایا گیا۔ اور ایک واضح فرق دونوں مخلوقات میں یہ بھی رہا کہ فرشتے اللہ کے حکم کے پابند ہیں اور اپنی عقل لڑا کر اس کی تعمیل یا انکار کی صلاحیت جنات کو دے دی گئی۔ جنات نے اپنی عقل کے زور پہ معاملات سمجھنا اور ان کو مختلف طریقوں سے پورا کرنا آسان بنا لیا۔ ایسا لگتا ہے کہ معاملات کی سمجھ بوجھ میں جنات شاید فرشتوں کے کان کترنے لگے اللہ کی عبادت کو نت نئے طریقوں سے ادا کر کے ان جنات نے اپنی جگہ خالق کے قریب سے قریب تر بنا لی۔ اب احساس حسد تو کبھی فرشتوں کے شایان شان رہا ہی نہیں مگر جنات میں آگے سے آگے بڑھنے اور اپنے خالق کو مزید خوش کرنے کے لئے مقابلے کی آگ نے لے لی۔

یہاں ہم متعارف ہوتے ہیں ایک ایسے ہی جن سے جس کا نام عزازیل تھا۔ یہ اسکا اعزازی نام ہے یا اصلی، واللہ اعلم، مگر دوسرے اعلی درجے کے فرشتوں کے نام سے ایسا لگتا ہے کہ اس کو بھی یہ نام ہم وزن دیا گیا جیسے جبرائیلؑ، اسرافیلؑ، میکائیلؑ اور عزرائیلؑ۔ اللہ نے اسی جن کی حقیقت اس کے اپنے اوپر ظاہر کرنے کے لئے اپنے سب سے ماسٹر اسٹروک خلقیت “جناب انسان” کی پیدائش فرمائی۔ پچھلی دونوں مخلوقات کے برعکس انسان کا مادہ تخلیق اسی زمین و آسمان کی موجود مٹی ٹھہری۔ اللہ نے آدمؑ کو مٹی سے تخلیق فرمایا اور پھر اپنی روح سے اس کے اندر پھونکا تو یہ جیتا جاگتا انسان وجود میں آگیا۔

فرشتے اس سے تھوڑا ٹھٹکے، اور اللہ کی جناب میں گزارش رکھی کہ یہ بھی زمین وآسمان میں بیشتر جنات کی طرح خون خرابا اور فساد کریں گے۔ مگر اللہ کے جواب نے فرشتوں کو لاجواب کردیا کہ “جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے”۔ اللہ نے آدمؑ  کوتمام نام سکھائے اور تقریب رونمائی میں یہ طے پایا کہ جب اللہ کا حکم ہو تو تمام مخلوقات، فرشتے اور جن اس کے سامنے سجدہ رو ہو جائیں۔

وہ دن بھی آن پہنچا کہ جب آدمؑ کو سجدہ کرنے کا حکم ہوا، تو سب فرشتے اور جنات اللہ کا حکم بجا لائے سوائے عزازیل کے۔ وہ خوفناک نظارہ بھی دید کے قابل ہوگا کہ جب کسی مخلوق نے اپنے خالق کی حکم عدولی کی ہو، ساری خلقت آدمؑ کے سامنے سجدہ میں تھی مگر ایک تھا جسے شاید یہ حکم ہضم نہ ہوسکا۔ جب اللہ نے عزازیل سے اس حرکت کی وجہ معلوم کی توآدمؑ سے اسکی نفرت اور حسد نے غرور کا لبادہ اوڑھ لیا، جواب یہ دیا کہ میں آدمؑ سے بہتر ہوں۔ بہتر کبھی بھی بدتر کے سامنے اپنا سر نہیں جھکاتے۔ اپنے آپ کو بہتر سمجھنے کی یہ بیماری یقیناَ اسکی عقل کی ہی پیدا وار ہوگی، اور اپنے زہد کے گھمنڈ میں وہ یہ نہ دیکھ سکا کہ اللہ کے حکم کے آگے اپنی عقل کو ترجیح دینے میں نہ صرف وہ حکم عدولی کر بیٹھا ہے بلکہ اس نے اللہ سے شرک کر کے اپنی عقل کے حکم کو ترجیح دے دی ہے۔

تقریب رونمائی نے فرشتوں کو تو اللہ کے آگے سرخرو کردیا مگر عزازیل اب عزازیل نہ رہا، آج سے اس کا نام ابلیس رکھ دیا گیا۔ اس ڈانٹ پھٹکار سے ابلیس نے کوئی سبق نہ سیکھا نہ ہی توبہ کے دروازے کا رخ کیا ، بلکہ اپنے غرور کے نشے میں ڈوبا یہ جن اپنے خالق کی رحمت سے ہی ناامید ہوگیا، اسی لئے اس کا نام ابلیس یعنی نہایت نا امید رکھ دیا گیا۔ ہم اس جن کو انسان کے لفظ کے ہم وزن لفظ شیطان سے جانتے ہیں۔

ابلیس نے اپنے عمل کو صحیح ثابت کرنے کے لئے اللہ سے کچھ وقت معیین مانگ لیا، اور اللہ نے اسے روز قیامت کے دن تک زندگی عطا کردی۔ جس طرح ریس شروع ہونے سے آخری لمحات تک کھلاڑی کے پاس وقت ہوتا ہے کہ وہ جیت جائے یا تھک کے ہار جائے، اگر تھک کے گر بھی جائے تو بھی ریس کا خاتمہ اس وقت معیین تک ہی ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح ابلیس کو یہ آزادی عطا کردی گئی مگر کچھ شرائط کے ساتھ، جیسے کہ انسان اور جن کے مادہ تخلیق کے بنیادی فرق کی وجہ سے آگ کی لپٹ مٹی کو صرف گرما سکے گی مگر اپنی مرضی سے ہلا نہ سکے گی، اسی طرح شیطان اپنے داوٗ پیچ صرف خیالات کی حد تک ہی آزما سکے گا مگر اسے یہ طاقت حاصل نہ ہوگی کہ وہ کسی انسان کو اسکا ہاتھ پکڑ کر راہ ہدایت سے بھٹکا سکے۔

یہی وہ وقت تھا کہ جب سے ابلیس اور انسان کی دشمنی کا آغاز ہوا اور یہ تا ازل جاری رہے گا۔ ابلیس سے اپنے خیالات کی طاقت کا استعمال کر کے آدم اور حوا سلام علیہ کو ان کی جنت سے نکالا اور اصلا انسان کو اس بات کا یقین دلانا چاہا کہ ابلیس کبھی بھی انسان کا بھلا نہیں چاہے گا۔

آدمؑ سے دنیا میں انسان کی افزائش کا سلسلہ چل نکلا، ابلیس اپنا داوٗ لگاتا رہا اور انسانوں کو راہ حق سے بھٹکاتا رہا۔ آدمؑ تک تو اللہ کی براہ راست ہدایت شامل حال رہی مگر اس کے بعد جب دینا کی آبادی بڑھتی گئی تو اللہ نے دوسرا دور کا آغاز کیا اور انہی انسانوں میں سے نہایت شریف طبع انسانوں کو چن لیا اور اپنا کلام لوح محفوظ سے نقل کر کے زمان و مکان کے لحاظ سے اپنے فرشتہٗ خاص جبرائیلؑ کو اس پہ معمور کیا کہ وہ انسانوں کو ان کے بھولے ہوئے سبق کی یاد دہانی کے لئے ہدایت کے نور کی لہریں اپنے چنے ہوئے انبیاٗ اور رسولوں تک پہنچائیں تاکہ ان کی وساطت سے یہ ہدایت باقی لوگوں تک پہنچ جائے۔

مستشرقیوں کی پیش کئے گئے حوالوں کے برعکس کہ اسلام جناب محمدؐ نے ایجاد کیا، بالکل غلط ہے۔ ان کی عقل کے مطابق جو حال عیسائی مذہب اور یہود مذہب  کا ہے ویسے ہی اسلام بھی ان کی نظر میں صرف ایک مذہب ہی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ جانتے بوجھتے وہ دنیا کو گمراہ کرنے کے لئے اس بات کا پروپیگنڈا کرتے رہے ہیں۔ حقیقت اس کے بر عکس ہے، اسلام دین یا مذہب نہیں بلکہ ضابطہٗ حیات ہے۔ اور ہر ضابطہ کا مرکز کسی نہ کسی ٹھوس بنیادوں پہ رکھا جاتا ہے ورنہ وہ کبھی ضابطہ نہ کہلائے۔ حیات انسانی میں یہ ضابطہ قرآن ہی ہے۔ اور اسی بنیاد کو مضبوط رکھنے کے لئے تا ابد اللہ نے اس کی حفاظت کا ذمہ لے لیا۔

ایک مجہول مسئلہ نے عالم اسلام کو گزری ہوئی صدی میں کافی پریشان رکھا، صلاطین و خلفاٗ بھی اس مسئلہ کے ہیجان سے اپنی جان نہ چھڑا سکے۔ جدید علوم کے پیرو کار نا علمی میں اپنی پٹری ہی تبدیل کر بیٹھے۔ وہ مسئلہ ہے قرآن کو مخلوق سمجھنے کا۔ اس مسئلہ کو بہتر طریقہ سے سمجھنے لے لئے ہمیں قرآن کی طبع کو سمجھنا ہوگا۔ قرآن کا نزول ہوا ہے بطریق کلام ۔ کلام کے معنی ہیں بات چیت یا خطاب۔ کلام کا مکلم کا ساتھ جو رشتہ ہے وہی اللہ اور قرآن کا ہے۔ اللہ کے صفت کلام کے عروج نے جب ایک شکل اختیار کی تو وہ قرآن بنا۔ تمام علماٗ کا اتفاق یہ ہوا کہ اللہ کی ہر صفت کا اس کی ذات باری سے تعلق ” لاعین ولا غیر”  ہے، یعنی صفات اللہ کی ذات سے لازم و ملزوم نہیں کہ اگر وہ صفت نہ ہو تو اللہ نہیں یا پھر یہ کہ وہ صفت اللہ کے لئے ملزوم ہے، نعوذباللہ ۔ اللہ ان تمام قسم کی زور و زبردستی سے آزاد ہے۔ اس نےقانون بنایا ہے اور وہ بذات خود اس قانون سے بالا تر ہے۔

قرآن اللہ کا کلام اس طرح سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ کلام ہر ایک کی اندرونی کیفیئت اور اخلاق کو سامنے لے آتا ہے۔ جس طرح ہمارے مشاہدے میں یہ بات رہی ہے کہ کسی انسان کا اس وقت تک پتہ نہیں چلتا جب اس کا منہ نہ کھلے، قرین اولآ میں ایک کہاوت مشہور رہی ہے کہ انسان کا دماغ ایک پتیلی کی مانند ہے اور اس میں کیا ہے اسکا پتہ اسی وقت چلتا ہے جب وہ چیز اس کے دماغ سے نکل کر زبان کے راستے باہر آجائے۔ اس کی سوچ، اخلاق و عقل اور فکر کی پستی یا بلندی اس کے کلام سے صاف ظاہر ہو جاتی ہے۔ قرآن کی معجزانہ حیثیت آج تمام عالم پہ سورج کی روشنی کی طرح عیاں ہے۔ یا کم از کم اس  درجہ میں کہ یہ اپنی اصلی حالت میں من و عن موجود ہے۔

زبان قرآن۔

لوح محفوظ کس زبان میں ہے یہ بات ابھی ہمارے علم میں نہیں، مگر اس سے لی گئی ھدایات زمان و مکان کے لحاظ سے ان زبانوں کا جامہ پہنتی رہی ہیں جو کہ اس وقت انسان کی تہذیب کی سب سے زیادہ قبولیت کی حامل رہی ہوں اور اس لئے بھی ، کہ پیغام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔ ایک اصول جو ملحوظ رکھا گیا ، وہ یہ کہ یہ سارے کلام و کتاب صرف اور صرف سامی زبانوں کی حد تک رہے ہیں۔ جو مکمن ہے کہ اللہ کے ایک بہت عزیز نبی ، جناب ابراہیمؑ ، سے کئے گئے وعدے کے مطابق ہو، کہ اب سارے نبی اور رسول انہی کے نسل سے آئیں گے۔ ابراہیمؑ سے پہلے بھی نبی اور رسول نسل سامی سے رہے ہیں جو پوری دنیا میں طوفان نوحؑ کے بعد نوحؑ کے باقی ماندہ بیٹوں میں سے ایک تھے۔ ان کے باقی تین بیٹوں ، ھام ، یام اور یافت کے حصہ میں یہ اعزاز نہیں آیا۔ قرآن سے پہلی اللہ کی کتابیں عبرانی اور ممکنہ حد تک آرامی زبان میں نازل کی گئیں۔ اور قرآن خود عربی زبان میں نازل ہوا۔ اور عربی بھی وہ کہ جسے ہمیشہ سے خالص سمجھا گیا، اور جس کو سیکھنے اور سمجھنے کے لئے عرب قبائل اپنے نوزائیدہ بچوں کو گا ٗوں اور دیہات بھیجا کرتے تھے تاکہ ان بچوں کی زبان میں کسی بھی قسم کی ملاوٹ دوسری زبانوں کی نہ ہو۔ ایک ایسی زبان جو اپنی اصلی حالت میں موجود ہو اور اس کے سامعین بھی زیادہ ہوں۔ قرآن عرب کے بادہ نشینوں کی زبان عربی میں نازل ہوا۔ اگر ہم مکان کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس وقت کے ایک نہایت اہم کاروباری مرکز یعنی مکہ میں جناب محمدؐ کا ظھور اس بات کی تائید کرتا ہے کہ پوری دنیا سے قافلے نہ صرف مکہ میں پڑا ٗو ڈالتے تھے بلکہ وہاں اپنے ملک سے لائی گئی چیزیں اور اجناس بیچتے بھی تھے، اس طرح کی جگہ احیائے دین کے لئے کتنی اہم ہوگی۔ اور اگر زبان کی اہمیت سمجھیں تو آج بھی اس شہر مکہ میں اگر آپ اپنی بات کسی سے کرنا چاہیں تو یہ عمومی طور پہ ضروری ہوگا کہ آپ کسی نہ کسی درجے میں عربی بولیں یا سمجھیں۔ یہ زبان اس وقت بھی کسی درجے میں بین الاقوامی حیثیت رکھتی تھی اور آج بھی اقوام عرب اپنے علاقائی فرق کے باوجود ایک دوسرے کی عربی زبان آسانی سے سمجھتے ہیں۔ یہ شرف اس زبان کو اسی لئے حاصل ہوا۔

مخاطب قرآن

ایک نہایت عجیب و غریب بات یہ ہے جو قرآن کی دوسری سورت میں بالکل شروع میں بتائی گئی ہے۔ مگر یہ بات بالکل بھی عجیب نہیں، مثٗلا،  آج بھی کوئی کتاب، خطاب، کورس یا تعلیم کبھی بھی ایسی نہیں جس میں اسکا مخاطب نہایت واضح نہ کردیا گیا ہو۔ آپ کبھی یہ نہیں دیکھیں گے کہ ڈاکٹر بننے والے طلباٗ انجینیٗرنگ کی کتاب لئے بیٹھے ہوں۔ آپ یہ بھی نہیں دیکھیں گے کہ کمپیوٹر انجینیٗر کو پھول اور پتوں کی اقسام کے بارے میں کورس کروایا جا رہا ہو۔ قرآن چونکہ کسی ہنر کی کتاب نہیں اور اسکے مخاطب کا کسی پروفیشن سے متعلق ہونا بھی شرط نہیں ہے اور یہ تمام انسانوں کی ہدایت کے لئے نازل کی گئی ہے، بے شک ایسا ہی ہے۔ مگر ، اگر ایسا ہے تو اس اصول کا کیا کریں جو مخاطب کی وضاحت اور شرط کو مد نظر رکھتا ہے۔ اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ قرآن کسی قومیت، زبان، جسامت، رنگ، ذہنی صلاحیت یا تعلیمی قابلیت کو مخاطب کی شرط نہیں ٹھہراتا۔ بلکہ قرآن کے مخاطب ہونے کی ایک اور صرف ایک شرط لازم کی گئی اور وہ ہے تقویٰ۔ انشاٗاللہ اس لفظ تقویٰ کو ہم آگے کافی تفصیل سے پڑھیں گے۔ اس وقت یہ جاننا بہت اہم ہے کہ جس طرح کسی سائنس کے طالب علم کے لئے آرٹس کی اصطلاحات اس کے سر سے گذر جائیں گی اور بہت چاہتے ہوئے بھی وہ طالب علم ان ہدایات کا زرہ برابر بھی فائدہ نہ اٹھا سکے گا۔ اسی لئے قرآن کا مخاطب بننا اسی درجے میں ضروری ہے ، تا کہ قرآن کی بات سمجھ میں آسکے۔

زمان و مکان۔

قرآن کی تعلیمات ابدی اور مستقل ہیں، انسان نے اپنی ذہنی صلاحیت کے مطابق جب بھی اس کتاب سے رہنمائی چاہی، قرآن نے اسے مایوس نہیں کیا۔ یہ اسی کتاب کا معجزہ ٹھہرا کہ اپنے نزول سے لے کر آج کی تاریخ تک ہر دور میں اس کی رہنمائی مشعل راہ بنی ہوئی ہے۔ اگر اسی اصول کو صحیح مانا جائے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اس کی بتائی گئی نشانیاں پہلے ماننے والوں کے لئے ایک الگ پہلو بیان کریں گی اور ابھی کے دور میں الگ، اسی طرح مستقبل میں یہی نشانیاں الگ پہلو بیان کریں گی۔ اس طرح بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس کی کچھ نشانیاں اور آیات اگر پہلے ادوار میں مشکلات کا درجہ رکھتی تھیں تو آج وہ بمثل سورج نہایت صاف اور شفاف روشنی طرح ہمارے سامنے ہیں، بالکل اسی طرح کچھ آیات جو شاید ہماری عقل و شعور کے دائرے میں نہ آتی ہوں آگے آنے والے دور میں نہایت آسانی سے سمجھ لی جائیں گی۔ ایسی تمام باتیں اور نشانیاں جو آج عقل انسانی کی پہنچ سے دور ہیں ہم انہیں مشکلات قرآن کہتے ہیں۔ یہ وہ نہ سمجھ آنے والی نشانیاں ہیں جو آج کے دور کی ٹیکنالوجی کے عروج کے باوجود انسان کی دائرہ عقل و شعور سے باہر ہیں، مگر چونکہ یہ کتاب سچ اور صحیح ہے اس لئے ہمیں انتظار کرنا پڑے گا کہ کب حضرت انسان کی عقل و شعور اس درجے کو پہنچے کہ یہ مشکلات خود بخود وضاحت میں تبدیل ہو جائیں۔ اگر مثال سے سمجھا جائے تو قرآن میں ذکر ہے کہ سورج، چاند اور ستارے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں۔ آج یہ بات شاید اسکول کا بچہ بھی جانتا ہو کہ ہر سیارہ اور ستارہ اپنے مخصوص مدار میں گردش کر رہے ہیں اور خلاٗ میں تیرتے محسوس ہوتے ہیں۔ آج ٹیکنالوجی اور سیٹیلائٹ اس کی باقاعدہ تصدیق کر چکے ہیں۔ اسی سچ کو کہ جس کو چودہ سو سال سے زائد ہوچکے قرآن میں موجود ہے۔ اسی سچ کو ماننا اور ایمان لانا ان لوگوں کے لئے کتنا عجیب شمار ہوا ہوگا کہ جیسے اس وقت کی انسانی عقل و شعور کی محدودیت کی ایک دیوار نے اس سچ کو چھپا دیا ہو۔ ماضی کی وہ مشکلات قرآن آج کے دور میں ایک جانی مانی حقیقت بن چکی ہیں۔ بالکل اسی طرح آج بھی قرآن کی کچھ ایسی نشانیاں موجود ہیں کہ انسانی عقل اپنی طفلیت کی مانند کمزوری کی وجہ سے ان کو نہیں سمجھ سکتی ہے، مگر آنے والے مستقبل میں یہی نشانیاں قرآن کی معجزے کو ایک مسلم حقیقت بنا دیں گی۔

دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ قرآن کی آیات کا نزول بموقع اور بضرورت کیا گیا۔ قرآن کی آیات تورٰت کی طرح لکھی ہوئی تختی میں ایک ساتھ نازل نہیں ہوئیں بلکہ درجہ بدرجہ آیات بہ آیات نازل ہوئیں، جن میں مکان اور زمان کا دخل بہت اہم ہے، ورنہ کیا بات کب کی گئی اور اس کی معلوم وجوہات کیا تھیں، اگر یہ اصول مد نظر نہ رکھا گیا تو بظاہر مفصل آیات بھی مشکلات بن کے رہ جائیں۔

تمام علماٗ کے اجماع کے مطابق قرآن کا نزول ۲۳ برس یا کچھ زیادہ میں ہوا۔ قرآن کی اپنی آیات کے مطابق یہ پورا قرآن لیلة قدر میں لوح محفوظ سے نقل کرکے سمائے دنیاوی میں اتار دیا گیا تھا۔ اور پھر درجہ بدرجہ اسے نازل کیا گیا۔ اس بات کا بہت خیال رکھا گیا کہ کس آیت کو قرآن کی کس جگہ نقل کیا جائے۔ اسی لحاظ سے قرآن کی ترتیب نزول کچھ اور ، اور ترتیب کتاب کچھ اور ہے۔ قرآن کی آیات موقع کی مناسبت سے نازل ہوئیں اور انہیں مرتب ٹھیک اسی طرح کیا گیا جیسا کہ اللہ کا حکم ہوا۔ یہ بات بھی ذہن میں رکھنی پڑے گی کہ قرآن کی مکمل شکل دراصل لوح محفوظ کی مصدقہ نقول کی حیثیت رکھتی ہیں۔

قرآن پورا کا پورا حجاز میں نازل ہوا۔ اس کا کوئی حصہ یا آیت حجاز سے باہر نازل نہیں ہوئی۔ حجاز لفظ کا مادہ حاجز سے نکلا ہے جس کے معنیٰ پردہ کے ہیں۔ حجاز دراصل آج کے سعودیہ عرب میں واقع دو جگہوں کے بیچ میں پایا جاتا ہے۔ یہ نجد اور تہامہ کے درمیان موجود علاقے کو کہا جاتا ہے۔ مکہ، مدینہ، جدہ اور تبوک حجاز کا ہی علاقہ شمار ہوتا ہے۔ ظہور نبوت کے بعد جناب محمدؐ انہی علاقوں میں رہے اور انہی علاقوں میں آپؐ پر قرآن کی آیات کا نزول ہوتا رہا۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔۔۔

The Kit Bag; conclusion

Was The story just a figment of my imagination? Or just another day for a cricket enthusiast?

I remember my mentor, my very first boss telling me the same idea. 

You want to be expert on any field, you better start your learning from holding the Kit Bag.

In my re-search works i have found that your eye for details and sight for observation plays a vital role in your learning. The base knowlege is deadly important for your future understandings. That is why we have the setup in education of Primary and then Secondary. 

The students came across in my education style know very well that I never had started my class from the Book. I always started with the basics of the topic we would see in details. Reasons are very clear, to make a blue print of the comprehensive details and start with the summary. How was that possible, because, since the topics are understood to me backwards. 

The most important thing is to keep in your mind that you are not going to do the same work for your whole life if you have ambitions in your head. The guy in our example in earlier story had the ambition of becoming an all-rounder and he never felt any shame to hold the kit bag for as long as it was needed. 

It is as simple that you have to goto another city through Train, you would never stop and get out on every village stops in between, you would never allow yourself to feel any success  untill you reach your destination. 

If you have a hobby. Make that your profession, and the smart person is who earn in the way. Otherwise try hobbies. If we observe a skilled Surgeon we would see his attention to details. His operation would be smoothed out to a very appreciative level. 

So concluding my blog here, do not afraid to do petty jobs in the line of the profession that you target, treat them as your stairs to the higher level. Its always a bad idea to move on to the higher level if you are not sure the base is secured; therefore the idea of building the sky scrappers. You hardened your current floor before you goto the next. Always keep your dream in your head and heart. A target-less person is a failure by default. 

In many ways. Profession is like a pyramid. Too much area to cover initially and require too much of time, but very vital time of your life. The higher you go the lesser your efforts would be. But You would gradually be on the higher position. 

So… Hold your kit bags and become unstoppable. 

The Kit Bag

I saw him the very first time in the ground holding some kit bags for the players. I wondered he must be some poor fellow earning a living here working as an apprentice. He was observant for sure, keeping his gaze and concentration on very small details possible. I never saw him taking notes or points. Many times I saw him coordinating and communicating with the fellow men keeping a smile on his face.

I have been visiting this cricket play ground for quite some time, i like the fresh air and some natural greenery around me. Helps me clear my head. For some reason I became interested in this fellow, working in a different style and soon it became quite obvious that he was incorporating different ideas during his work. You would ask why him, the obvious answer was he felt happy in what he was doing, as I have observed many other people working here in the ground performing their duties as Duty, with less interest and no vision of what they could possibly become. 

Few months have passed and it was quite interested than a shock to see him in the kit. The very Kit he was transporting in and out of the ground. I felt achievement is his eyes and self esteem in his actions, yes this poor fellow seems to start net practicing as what was seemed to me. I saw conviction in his moves and the coach felt happy with him and guiding him along the moves. I was glad to see him on this stage even i never thought to see him in that position, but I was glad. 

This was final match between my city and the neighbors. This fellow was giving a very hard time to both the bowlers and the batters of the opponent team. Even though he was enlisted as Bowler but seemed to have upgraded to all-rounder since last few matches. His team needed him in a bad situation and this guy came up as promising young chap. The match was about to over but the victory was more than obvious. The last over was done and we won the match. To be very honest I am never a cricket enthusiast but him winning really gave me a sense of achievement.

A Journey from being an apprentice and just a keen observant from a distance of the game of Cricket, this young fellow has proven his strenght of achieving Goal, setup in his mind and proved every nai sayer wrong he came across. He could have ended up as a cleaner for the rest of his life, he could have joined as a admin guy or an accountant in the management. That’s was others did in his fellow team of apprenticeship. 

So how did he was able to acheive that??? 

I would wait for your comments in the comments area. Let see then !!! 🙂

We are Nature…

A child opening eyes in this World has already interacting with the surroundings consciously or unconsciously. Coding of his/her DNA is beginning the adventure of a lasting happiness or depression, a state we call Life. 

The moment the child’s brain started accumulating the experiences around him/her, the part of the personality is already begun forming. With the traits of DNA, this child will either overcome many traits of the family or just fell helpless to it. 

Next comes the judegement or pre-judice of the actions he is doing or observes other doing, a conceptual hard print is been generated we all like to call the ‘Perception’. 

The memory imprints, and the new guy started to like few things and hate few, he would likely to never try something he hate or never likely to pause something he likes dearly, it is the time to choose the morality. 

The new guy although has not much idea about the life outside his premises he likes to call home and yes… There is a big whole wide world waiting for him to come out and play…

Factors like surroundings, family, friends are going to play vital role for him, but family is the one that proves to be vital among all. 

A “Don’t worry Son, do not see your marks, focus on your Learning” would apart from “You do not score high, your cousins will Leave you behind”.

“Learn in your Class, cause the environment and teacher is there” would be much different from “look at your scores, don’t play, sit and study”. 

“Explore and abserve, choose what would you do happily as your Profession, its your life” would make a difference from “we have doctors in our family, I don’t wanna see this camera in your hands again”. 

The first lessons are learned in home and the first teachers are Parents and immediate family

 We all must have observed a little brother of elder sisters acting as little girlish and vice versa. The action started to appear in adolescence and further upbringing would decide the real persona.
The fixation of persona being forced by the parents would always leave the child with permanent cogs in the brain that is not going to fit everywhere and every place and every condition the life would throw at him. He may follow the crowd like he has no control of his life and he has no choice,since from the begining his brain is wired as such.

Education with street-smartness enclosed with Moral values has proven to be a basic guideline for persona

Like our hand prints and cornia designs doesn’t match as we are. Every company of 2 has been successful only when, either the acceptance of change is there or traits are compatible, as the beauty of living is not having thoughts alike, but respect of each other and getting benefits from the diversity of both the personalities. See the beauty of yin and yang.

Since this is connected to my first blog in here, the topic of Normality is somehow the second step to this, with persona being the attitude and Normality as the trait…

A balanced personality does require the correct ingredients which is the output of right up-bringing.

To answer a good friend’s blog post, the perception, attitude and positive up-bringing is what accumulates to be the diversified persona. From early on its either Nature vs Learning or Nature of Learning… 🙂

Norm, Normal and Normality…

A state of mind where things happen like Creativity, serenity, and survival.

Earth, rotates a little faster or little slower; won’t survive for long. Its the only way things are what they are supposed to be in order to ‘be’…

I remember the time when I started learning Bike riding I only learnt how to accelerate initially and Brakes never got my attention that much, but soon I realized its the combination of Brakes and Accelerator that would make my ride smooth and easy. All of us who ride bikes know this rule that there has to be the brake pedal pushed down a bit, and just a bit to allow the bike to accelerate in first few moments of the ride and be used again and again when you required to be riding a bit slower than usual.

The same rule for automatic vehicles. The brakes are what moderate our rides smoother.

The same thing goes for our life, be it social or professional. Its important to know the pace required; and the same goes for our communication and interaction with fellow earthians to be on the state of norm.

Being Muslim myself I have learnt that ‘Islam’ is the word rooted from ‘Salm’ meaning peace or norm. It was also very interesting to know that the Word that comes exactly in the middle of “The Holy Qur’an” is itself means ‘Norm’… no wonder, since the life of a Good Muslim and a Good Human revolves around that.

Its pivotal to understand that Norm is not the absence of Hard or Soft… Its the balance of the both.

For every human being on this earth has been designed and wired completely different, so a Norm of one Person cannot be ideal for the other. Try and imagine an artist whose art is to balance things on each other, you would observe that he doesn’t use the same stone in size or weight to balance a chair and a table. Rather he uses as per required by that items itself due to its size and weight.

Living is not a page of stone-chiseled rules, its an Art. That is why its subjective to every one of us. There is an old saying that ‘in order to live happy you must find your center’. And that’s exactly how you find balance in your life, by locating simply your Centre. Which in turn requires you to move yourself down in, from your flesh and bones to the Soul.  I read some place that in order to understand others or the outside, first you need to master your awareness of your own soul which is hidden in you.

reach your center to achieve your norm.

Peace.

I.A.