Monthly Archives: August 2017

اسرارالقرآن ۔۔۔ قسط 4

اللہ بادشاہ ہے اس دن کا جس کا نام یوم الدین ہے۔ اس ضمن میں ہم اپنی پچھلی گفتگو کو اگر ذہن میں رکھیں تو یہ کائنات جب پیدا کی گئی تو ساتھ ساتھ اس کے ختم ہوجانے کا تعیین بھی اللہ نے کرلیا تھا۔ ختم ہوجانے کی یہ حقیقت ایک ایسی سچائی ہے کہ اللہ نے وہ تمام چیزیں یا مخلوق پیدا کی ہیں ان کی موت اور خاتمہ کا وقت بھی معیین کر لیا تھا۔ جس طرح “اللہ باقی، من کل فانی” کا اصول جو تھوڑا بہت بھی آج ہم سمجھ سکے ہیں اس کے مطابق اس کائنات کا ایک وقت معلوم اللہ نے طے کر رکھا ہے کہ جس میں یہ بساط لپیٹ لی جائے گی اور ہر مخلوق ٹھیک اسی طرح ناپید ہوجائے گی جیسے اپنی تخلیق سے پہلے تھی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ، جس وقت اللہ نے یہ چاہا کہ یہ کائنات اور اس میں موجود مخلوق بنائی جائے تو اس وقت جو صورت حال تھی ٹھیک اسی طرح قیامت کے دن بھی اللہ اپنے اس دائرہ تخلیق کو مکمل کردیگا۔ کیونکہ یہ وہی دن ہوگا کہ اللہ پکارے گا کہ کون ہے میرے مقابلے میں موجود؟ اور اللہ کی آواز ہی ہر جگہ سے پلٹ کر آئے گی، کوئی ذی نفس اور ذی روح اس دن موجود نہ ہوگا اس سوال کا جواب دینے کو۔

اگر ہم غور کریں کہ اس دن کو کہ جسے ہم قیامت کے نام سے جانتے ہیں الدین کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں ہی وہ راز مخفی ہے کہ جسے آج ہر انسان ڈھونڈنے میں لگا ہوا ہے کہ آخر اس دنیا اور اس کائنات کا مقصد کیا ہے؟ اگر ہم اسے اس دنیا اور کائنات کے آخری دن کی حقیقت سے سمجھیں تو بہت آسان ہوجائے گا، کیونکہ یہ دن ہی وہ اصل مقام ہے کہ شب و روز ہم اسی طرف کھنچے چلے جارہے ہیں، یہ دن ہے کہ جب سب کا حساب برابر کر دیا جائے گا۔ اکائونٹنگ کے کسی طالب علم سے بھی اگر یہ پوچھیں کہ حساب کو برابر کردینے کا کیا مطلب ہے تو وہ بآسانی اس سوال کا جواب دے سکے گا کہ حساب کا اصول اس وقت ہی صحیح بن سکے گا جب جتنا ڈالا جائے اتنا ہی نکال یا جائے۔ بیلنس کا اصول اسی طرز پہ کام کرتا ہے کہ آخر میں سب ملا کے صفر ہو جائیں۔ اور ظاہر ہے کہ اللہ اس حساب و کتاب سے باہر ایک محسب کی مستقل حیثیت رکھتا ہے۔ اور اس دنیا کا مقصد  سوائے اللہ          کی بندگی اور اس کی اطاعت کے سوا کچھ نہیں۔ ض۱۔

[ضمیمہ ۱]

انسان نے جب سے ہوش سنبھالا ہے اسے اپنے آگے پیچھے ، اوپر نیچے اس دنیا کی پھیلی ہوئی رعنائی ہی دکھی ہیں، اسے ایسا لگتا ہے جیسے کسی چھوٹے بچے کو کھلونوں کی دکان میں آکر لگتا ہے، وہ بڑی حیرانی سے ادھر ادھر رکھے کھلونے دیکھ رہا ہوتاہے، جہاں تک اس کا ہاتھ جاتا ہے اس کھلونے کواٹھا کر کھیلنا شروع کردیتا ہے، اب ایک بچے کا کھیل کیا ہوسکتا ہے، کبھی وہ اسے اٹھا کے پٹختا ہے کبھی ہوا میں اچھالتا ہے اور کبھی اسے اپنے منہ میں ڈال لیتا ہے۔ اپنی ذہنی صلاحیت سے وہ اس سے جتنا لطف اندوز ہوسکتا ہے ، ہوتا ہے۔

اللہ نے اس دنیا کو بنانے کے بعد ہی حضرت انسان کو تخلیق کیا، اس کرہٗ ارض کہ جس کی شروعات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک بڑے دھماکے سے ہوئی اور ہر طرف آگ ہی آگ اور فلکیات کے ٹکڑے ادھر سے ادھر بکھر سے گئے۔ کئی لاکھ سال تو شاید اس زمین کو ہی لگے کہ اس میں اس تپش سے پیدا ہوئی گرمی کچھ ٹھنڈی ہوئی اور وہی بخارات جو اسے اپنے گھیرے میں لئے ہوئے تھے آہستہ آہستہ پانی میں تبدیل ہوئے اور اسی مادہ تخلیق پانی سے یہاں مخلوقات پیدا ہونی شروع ہوئیں۔ پھر جب انسان اس زمین پر بھیجا گیا تو اس وقت تک اس کی مہمانی کے لئے یہاں اس کا استقبال تمام مخلوقات نے کیا۔ پہلا انسان ہی اپنے اللہ کا خلیفہ بنا کر بھیجا گیا، آدم ؑ خود ایک نبی تھے۔ اور پھر اماں حوا ؑ سے یہ دور انسانی شروع ہوا۔ آدم ؑ کو اس دنیا و ما فیہا میں موجود تمام مخلوقات ، نباتات اور اشیاٗ کا نام سکھا کے بھیجا گیا تھا، ساتھ ساتھ اس کا کیا استعمال ہوگا اس کی تعلیم بھی دی گئی تھی۔ انسان کی تعداد بڑھتی گئی، اب سب کا ایک ساتھ رہنا جب ممکن نہ رہا تو انہی اولادوں نے زمین کے دائیں بائیں کی جانب پھیلنا شروع کیا۔ جب تک اللہ کے نبی آدم ؑ ان کے جد امجد سے ان کا رابطہ رہا، سب کے سب ہی مسلمان رہے۔ مگر جب یہی تعداد زیادہ ہوئی اور انسانوں کو دور دراز علاقوں میں تلاش معاش میں پھیلنا پڑا، اور ان کے مرکز سے ان کا رابطہ آہستہ آہستہ کم ہوتا گیا تو وہ علم جو آدم ؑ نے اپنی آل اولاد کو دیا تھا اب تک وہ سینہ بہ سینہ چل رہا تھا۔

آئیے اس بات کو ایک قصہ سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

آدم ؑ کی اولاد میں سے کوئی شخص جو شاید ممکن ہو کہ دور چلے جانے والوں میں شامل تھا اور جو اپنے اللہ اور اسکے بتائے گئے اصولوں پر چلتا تھا اپنی تعلیمات اپنی نسل میں منتقل کرنے سے پہلے ہی اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ یہ وہی دور تھا جب شیطان لعین اسی انتظار میں راہ تک رہا تھا کہ کب اسے موقع ملے اور وہ اپنی کاروائی دہرائے، وہی کاروائی جو اس نے ان کے جد امجد آدم ؑ کے ساتھ کی تھی اور انہیں جنت سے نکلوا کے ہی چھوڑا تھا۔

اس شخص کی اولاد سے کے ساتھ جو ہونے والا تھا اسے جاننے کے لئے، تھوڑی دیر کے لئے ایک ایسے بچے کا تصور کیجئے کہ جو اپنے ماں باپ سے کہیں سفر میں بچھڑ گیا ہو، اس کی پریشانی ، ڈر اور بوکھلاہٹ کا کیا عالم ہوگا؟ اسے راستہ نہیں سجھائی دیتا، نہ اس کی مدد کو کوئی ذی نفس اسے دور دور تک نظر آتا ہے۔ ایسے میں ایک ڈاکو اور رہزن  ایک نیک فرشتہ کے بھیس میں آئے اور اسے اٹھا کے اپنے ساتھ لے چلے، یہ راہزن اس بچے کو حت الامکان یہ یقین دلائے گا کہ وہ اسے صحیح راہ دکھائے گا، اور اس کی منزل یعنی اس کے ماں باپ سے ملوا کر ہی دم لے گا۔ ذرا سوچئے کہ اس بچے سے ساتھ اب کیا سلوک ہوگا، اسے اپنے ماں باپ سے ملنے کی پیاس اسے مجبور کردے گی کہ وہ اس راہزن کے بتائے ہوئے راستے پر چلے۔ بچہ اپنی سمجھ کے مطابق صحیح راستہ پہ چل رہا ہوگا مگر اس کے دل میں یہ کھٹکا بھی لگا ہوگا کہ کہیں یہ فرشتہ صفت انسان جو اس کی مدد کر رہا ہے اصلیت میں کوئی راہزن نہ ہو کہ جس کا کام راہ میں بیٹھ کر لوگوں کو گمراہ کرنا اور انکو نقصان پہنچانا ہو۔

 بعینہ یہ حال آدم ؑ کی اس اولاد کا ہوا جس کا ذکر ہم نے ابھی کیا، کہ وہ باپ جو انہیں اپنے ساتھ صراط مستقیم کی طرف لےکے جارہا تھا ایک ناگہانی موت کا شکار ہو گیا اور اب اسکی اولاد راندہ درگاہ ہوگئی، اس شخص کے بچے نہ تو اتنے عقل و شعور کی عمر کو تھے کہ واپسی اپنے اس گھر کی طرف چلے جاتے کہ جہاں سے انہوں نے اپنا سفر شروع کیا تھا، اور نہ ہی آگے کا راستہ معلوم تھا کہ اپنا سفر جاری رکھتے۔ بھوک اور پیاس سے اس شخص کی فیملی کچھ دن ہی بچ پائی اور ایک دن سوائے ایک  چھوٹے سے بچے کے سب لوگ مر گئے۔ یہ چھوٹا بچہ کہ جس کی زندگی کے آغاز میں ہی اس اسکا باپ چھن گیا، کیا سیکھ کے بڑا ہوگا؟ ظاہر ہے کہ اسے پہاڑ دیو قامت جنات نظر آئیں گے اور درخت بھوت پریت۔ رات کی تاریکی میں چمکتے ستارے اسے جگنو لگیں گے یا کوئی راستہ دکھانے والے محسن، دن ہوا تو سورج کو دیکھ کے شاید وہ سجدے میں گر گیا ہوگا کہ اس نے اسے رات کی خوفناکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آیا۔ بھوک اور پیاس کی شدت سے نڈھال یہ بچہ کسی سمت چل پڑتا ہے ، کچھ آگے جا کے اسے پانی کا چشمہ نظر آتا ہے اور اسی سے متصل کچھ پھلوں کے درخت۔ اس بچے کی جان تو بچ گئی مگر آپ اس سے جا کے پوچھیں کہ اللہ کون ہے، تو اس دنیا میں کیا کرنے آیا ہے؟ تیری تخلیق کا مقصد کیا ہے؟ کیا تجھے معلوم ہے کہ تجھے کیا کرنا ہے؟

اس قصہ میں جو حال اس چھوٹے بچے کا ہوا ہے ٹھیک یہی حال اس وقت کے انسان کا ہے۔ اسے یہ نہیں پتہ کہ اس کا خالق و مالک کون ہے، وہ اس دنیا میں کیا کرنے آیا ہے، ہمارے ارد گرد جو مخلوقات کا ایک سمندر ہے ان سب کی تخلیق کا اصل میں مقصد کیا ہے؟ ہم کیا کر رہے ہیں، کہاں جارہے ہیں۔

اسرار القرآن۔ قسط ۳

قسط ۳

قرآنی صحیفات۔

قرآن کے نزول کے وقت اور آج تک ہم اس بات کو متفقہ طور پہ تسلیم کریں گے کہ قرآن کو جتنے لوگوں نے پڑھا ان کے رسم الخط ، ہجے اور قرآت کے طریقوں میں کچھ نہ کچھ فرق پایا جاتا ہے۔ امت کو ایک رسم الخط پہ جمع کرنے کی خصوصی اہمیت اس وقت محسوس ہوئی جب اُپؐ کے انتقال کے بعد لوگوں نے اپنے اپنے صحیفے ترتیب دینے شروع کئے۔ مکہ و مدینہ میں جو مسلمان آباد تھے ان کو اس وقت بہت حیرت محسوس ہوتی ہوگی جب کسی دور دراز کے قبائل کے مسلمان قرآن ایک نا مانوس لہجے اور ہجوں میں قرآن کی تلاوت کرتے تھے۔ قرآن ایک ایسی زبان میں نازل ہوا ہے کہ جس میں اگر ہجوں کی زرا بھی ردوبدل کردی جا ئے تو معانی بالکل تبدیل ہوجاتے ہیں، ہم اس کی مثال خود قرآن سے دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح پچھلی امتوں سے یہودی اس بات کا کتنا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے تھے، کبھی اللہ کی بتائی ہوئی بات کو کسی دوسرے ہجے میں پڑھ کر معنی کو کہیں سے کہیں لے جاتے تھے، کہیں حطہ بن جاتا تھا حنطہ، وغیرہ وغیرہ۔

اس بات کی شدت محسوس کی گئی کہ دورہ خلافت راشدیہ میں اب جب کہ اسلام عرب سے نکل کر چاروں طرف پھیل رہا ہے تو امت کو کسی ایک صحیفے پہ یکجا ہونا چاہئے۔ کئی سارے موجودہ صحیفوں میں سے اللہ نے اپنے خلیفہ سوم جناب “عثمانؓ ابن عفان شہید معصوم” کے مرتب کردہ صحیفہ کو قبول کرلیا اور یوں تو ویسے آج تک لوگ اپنے مقامی ہجوں سے ہی قرآن پڑھتے ہیں مگر اس کی کتابت اور رسم الخط آج تک صحیفہ عثمانیؓ سے ہی مطابقت رکھتی ہیں۔

منازل و تقسیم۔

قرآن میں آیات کی تعداد چھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ  ہیں اور اس میں ایک سو چودہ سورتیں ہیں۔ قرآن کو سات منازل میں تقسیم کیا جاتا ہے، اس ترتیب کا ایک اہم فائدہ یہ ہوا کہ جو لوگ قرآن کو ایک ہفتے میں مکمل پڑھنا چاہیں تو روزانہ ایک منزل پڑھ کر یہ فیض حاصل کر سکتے ہیں۔ قرآن کی ہر آیت ایک اینٹ اور ہر سورت اس کے قلعے کی مانند لگتی ہے۔ اگر ترتیب پہ دھیان دیا جائے تو یہ بخوبی دیکھا جاسکتا ہے کہ منزلوں کی ترتیب میں یہ قلعے کی فصیل توڑی نہیں گئی، مگر اسکے برعکس پارہ بننے کی صورت میں نہ صرف مضامین کی تکمیل کا خیال موجود نہیں تھا بلکہ ساتھ ساتھ کئی سورتوں کی فصیلیں بھی توڑ دی گئیں۔ ہر پارے میں آیتوں کی تعداد کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی نے قرآن کے صفحات کو گن کر تیس حصوں میں ترتیب دے دیا۔ ہم جب یہ سعادت حاصل کرتے ہیں کہ قرآن کو معنی کے ساتھ سمجھ کر پڑھیں تو اس بات کا شدت سے احساس ہوتا ہے کہ قرآن کے جس موضوع پہ مطالعہ جاری ہے اسے کم از کم سورت مکمل کر کے ہی چھوڑیں، وگرنہ ایسی تشنگی محسوس ہوگی کہ جیسے آپ کسی مضمون کو پڑھ رہے ہوں اور کسی ضرورت کی بنا پر آپ کو مضمون مکمل کرنے سے پہلے ہی کتاب رکھنی پڑجائے۔ ذہن اور توجہ اسی مضمون کی طرف لگی رہے کہ نجانے آگے کیا ہوا اور بات آگے کس طرح بڑھی۔ قرآن کی محبت کم از کم اگر اس درجے میں ہو تو اس بات کا مفھوم سمجھ آسکتا ہے۔

ترتیب و تنظیم اسرار القرآن۔

ہم کچھ دیر میں ہی قرآن کی معنی اور مفھوم کی طرف بڑھیں گے، مگر اس سے پہلے کچھ منظم پہلو ذہن نشین کرلیں۔ ہماری ترتیب سورة الفاتحہ سے ہوتی ہوئی سورة الناس تک تکمیل کی جانب چلے گی۔ سورتوں میں خطابت کے انداز بیاں کی طرح سورتوں کے موضوعات پہ بحث کی جائے گی مگر ساتھ ساتھ ان تمام  جگہوں پہ ضمیمہ نمبر موجود ہوگا جہاں جہاں مصنف اپنی بات کو دیگر مثالوں سے واضح کرنا ضروری سمجھیں گے، تو اس کا ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ جو حضرات صرف سورة کے مطالعے میں دلچسپی رکھتے ہوں انہیں مضمون سے متعلق تفاصیل ایک ترتیب میں ملیں گی، جبکہ جو حضرات ان مضامین کے پس منظر اور پیش منظر میں دلچسپی رکھتے ہوں انہیں ضمیمہ کے طور پہ الگ تھلگ تفاصیل مل سکیں گی۔ ہم سورة کے اصل مضمون اور تشریح کو اپنی دیگر گفتگو سے آلودہ ہونے سے بچا لیں گے اور اول الذکر حضرات بنا روک ٹوک اپنے مطالعے کو جاری رکھ سکیں گے۔

ضمیموں کی موجودگی کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ ہم آج جس صدی میں رہ رہے ہیں قرآن کی ھدایت کو اس پیرائے میں سمجھنا اتنا ہی ضروری ہوگیا ہے کہ جتنا قرآن کی تعلیمات کو سمجھنا ضروری ہے۔ قرآن کی ھدایت افقی اور لافانی ہے، اسے زمان و مکان کی قید نہیں اور اس دنیا کے آخری انسان کی مخاطب بھی یہ ایک کتاب ہی ہوگی۔ میری یہ کوشش اسی پیرائے میں داخل ہے کہ اپنے مطالعے اور مشاہدے کی بنیاد پر میں اللہ کی دی ہوئی توفیق سے اپنا کچھ حصہ اس میں ڈالنے کی سعی کروں، اللہ مجھے اور آپ کو اس قرآنی ھدایت و تعلیمات کو سمجھنے اور انہی کی روشنی میں صحیح احادیث کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

میں قرآن کو اس مشعل کا درجہ دیتا ہوں کہ جس کی روشنی میں سنت نبویؐ کی شاہراہ صاف و شفاف نظر آسکے اور اگر ہم ان دونوں روشنیوں کو اپنی زندگی کے ہر پہلو پر سامنے رکھیں تو اللہ ہمیں کبھی بھی اپنے راستے سے دور نہیں کرے گا، یہ میرا عقیدہ ہے۔

سورة الفاتحہ

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا ہی رحم کرنے والا اور بڑا ہی مہربان ہے۔

یہ سورة نہ صرف قرآن کا ایک اہم ترین حصہ ہے بلکہ ایک ایسی چوٹی کی مانند ہے کہ جس پر کھڑے ہو کر آپ وادیٗ قرآن کا نظارہ کرسکیں گے۔ آنے والی تفصیلات سے ہم یہ سیکھ سکیں گے کہ یہ نہ صرف علوم قرآنی کا دروازہ ہے بلکہ ان علوم سے فائیدہ مند ہونے کا ایک ذریعہ اور شرط بھی۔

اس سورة میں جو بات سب سے اہم سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ مخاطب قرآن کون ہے؟ یا پھر جو ذی روح اس کتاب سے بہرہ مند ہونے کی کوشش کر رہا ہے اسے کیا اسلوب اختیار کرنے ہیں؟

اپنے ہر عمل کی شروعات ہمیں اللہ کے بابرکت نام سے کرنی ہے اور اسی اصول کو سکھانے کہ لئے بسم اللہ کی یہ تشکیل ہمیں ہر سورة ما سوائے ایک کے موجود ملے گی۔ یہ بتانے کہ لئے کہ میرا ہر عمل اس کے نام سے ہی شروع ہو، اور اس عمل میں مجھے میرا اللہ یاد رہے اور ساتھ ساتھ اللہ کی مدد شامل حال۔ وہ اللہ جو نہایت رحم کرنے والا ہے اور اپنی مخلوق کے لئے نہایت مہربان۔ جس اللہ کی اتنی مہربانیاں ہم پر ہوں تو ہم پر یہ واجب ہے کہ اس کی کتاب کا افتتاح اللہ کی حمد و ثناٗ سے کی جائے۔ یہ اللہ وہی الہٰ ہے جو عالمین کا رب ہے۔ ایک نہایت خوبصورت پیرائے میں یہ بات ہمارے ذہنوں میں اتار دی گئی کہ عالم صرف یہ نہیں جہاں ہم اس وقت موجود ہیں، ایک جہان وہ بھی ہے جہاں ہمیں مرنے کے کے بعد جانا ہے۔ وہ اللہ اس عالم دنیا اور عالم آخرت اور نجانے کتنے عالموں کا رب ہے۔ ہم قرآن کی روشنی سے عالم دنیا، عالم برزخ اور عالم آخرت کی موجودگی سے واقف ہو سکے ہیں۔ اور ان تمام عالموں کا وجود ہم سے مخفی ہے جن میں سر فہرست عالم جنات اور عالم ملائکہ شامل ہیں۔