اللہ بادشاہ ہے اس دن کا جس کا نام یوم الدین ہے۔ اس ضمن میں ہم اپنی پچھلی گفتگو کو اگر ذہن میں رکھیں تو یہ کائنات جب پیدا کی گئی تو ساتھ ساتھ اس کے ختم ہوجانے کا تعیین بھی اللہ نے کرلیا تھا۔ ختم ہوجانے کی یہ حقیقت ایک ایسی سچائی ہے کہ اللہ نے وہ تمام چیزیں یا مخلوق پیدا کی ہیں ان کی موت اور خاتمہ کا وقت بھی معیین کر لیا تھا۔ جس طرح “اللہ باقی، من کل فانی” کا اصول جو تھوڑا بہت بھی آج ہم سمجھ سکے ہیں اس کے مطابق اس کائنات کا ایک وقت معلوم اللہ نے طے کر رکھا ہے کہ جس میں یہ بساط لپیٹ لی جائے گی اور ہر مخلوق ٹھیک اسی طرح ناپید ہوجائے گی جیسے اپنی تخلیق سے پہلے تھی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ، جس وقت اللہ نے یہ چاہا کہ یہ کائنات اور اس میں موجود مخلوق بنائی جائے تو اس وقت جو صورت حال تھی ٹھیک اسی طرح قیامت کے دن بھی اللہ اپنے اس دائرہ تخلیق کو مکمل کردیگا۔ کیونکہ یہ وہی دن ہوگا کہ اللہ پکارے گا کہ کون ہے میرے مقابلے میں موجود؟ اور اللہ کی آواز ہی ہر جگہ سے پلٹ کر آئے گی، کوئی ذی نفس اور ذی روح اس دن موجود نہ ہوگا اس سوال کا جواب دینے کو۔
اگر ہم غور کریں کہ اس دن کو کہ جسے ہم قیامت کے نام سے جانتے ہیں الدین کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں ہی وہ راز مخفی ہے کہ جسے آج ہر انسان ڈھونڈنے میں لگا ہوا ہے کہ آخر اس دنیا اور اس کائنات کا مقصد کیا ہے؟ اگر ہم اسے اس دنیا اور کائنات کے آخری دن کی حقیقت سے سمجھیں تو بہت آسان ہوجائے گا، کیونکہ یہ دن ہی وہ اصل مقام ہے کہ شب و روز ہم اسی طرف کھنچے چلے جارہے ہیں، یہ دن ہے کہ جب سب کا حساب برابر کر دیا جائے گا۔ اکائونٹنگ کے کسی طالب علم سے بھی اگر یہ پوچھیں کہ حساب کو برابر کردینے کا کیا مطلب ہے تو وہ بآسانی اس سوال کا جواب دے سکے گا کہ حساب کا اصول اس وقت ہی صحیح بن سکے گا جب جتنا ڈالا جائے اتنا ہی نکال یا جائے۔ بیلنس کا اصول اسی طرز پہ کام کرتا ہے کہ آخر میں سب ملا کے صفر ہو جائیں۔ اور ظاہر ہے کہ اللہ اس حساب و کتاب سے باہر ایک محسب کی مستقل حیثیت رکھتا ہے۔ اور اس دنیا کا مقصد سوائے اللہ کی بندگی اور اس کی اطاعت کے سوا کچھ نہیں۔ ض۱۔
[ضمیمہ ۱]
انسان نے جب سے ہوش سنبھالا ہے اسے اپنے آگے پیچھے ، اوپر نیچے اس دنیا کی پھیلی ہوئی رعنائی ہی دکھی ہیں، اسے ایسا لگتا ہے جیسے کسی چھوٹے بچے کو کھلونوں کی دکان میں آکر لگتا ہے، وہ بڑی حیرانی سے ادھر ادھر رکھے کھلونے دیکھ رہا ہوتاہے، جہاں تک اس کا ہاتھ جاتا ہے اس کھلونے کواٹھا کر کھیلنا شروع کردیتا ہے، اب ایک بچے کا کھیل کیا ہوسکتا ہے، کبھی وہ اسے اٹھا کے پٹختا ہے کبھی ہوا میں اچھالتا ہے اور کبھی اسے اپنے منہ میں ڈال لیتا ہے۔ اپنی ذہنی صلاحیت سے وہ اس سے جتنا لطف اندوز ہوسکتا ہے ، ہوتا ہے۔
اللہ نے اس دنیا کو بنانے کے بعد ہی حضرت انسان کو تخلیق کیا، اس کرہٗ ارض کہ جس کی شروعات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک بڑے دھماکے سے ہوئی اور ہر طرف آگ ہی آگ اور فلکیات کے ٹکڑے ادھر سے ادھر بکھر سے گئے۔ کئی لاکھ سال تو شاید اس زمین کو ہی لگے کہ اس میں اس تپش سے پیدا ہوئی گرمی کچھ ٹھنڈی ہوئی اور وہی بخارات جو اسے اپنے گھیرے میں لئے ہوئے تھے آہستہ آہستہ پانی میں تبدیل ہوئے اور اسی مادہ تخلیق پانی سے یہاں مخلوقات پیدا ہونی شروع ہوئیں۔ پھر جب انسان اس زمین پر بھیجا گیا تو اس وقت تک اس کی مہمانی کے لئے یہاں اس کا استقبال تمام مخلوقات نے کیا۔ پہلا انسان ہی اپنے اللہ کا خلیفہ بنا کر بھیجا گیا، آدم ؑ خود ایک نبی تھے۔ اور پھر اماں حوا ؑ سے یہ دور انسانی شروع ہوا۔ آدم ؑ کو اس دنیا و ما فیہا میں موجود تمام مخلوقات ، نباتات اور اشیاٗ کا نام سکھا کے بھیجا گیا تھا، ساتھ ساتھ اس کا کیا استعمال ہوگا اس کی تعلیم بھی دی گئی تھی۔ انسان کی تعداد بڑھتی گئی، اب سب کا ایک ساتھ رہنا جب ممکن نہ رہا تو انہی اولادوں نے زمین کے دائیں بائیں کی جانب پھیلنا شروع کیا۔ جب تک اللہ کے نبی آدم ؑ ان کے جد امجد سے ان کا رابطہ رہا، سب کے سب ہی مسلمان رہے۔ مگر جب یہی تعداد زیادہ ہوئی اور انسانوں کو دور دراز علاقوں میں تلاش معاش میں پھیلنا پڑا، اور ان کے مرکز سے ان کا رابطہ آہستہ آہستہ کم ہوتا گیا تو وہ علم جو آدم ؑ نے اپنی آل اولاد کو دیا تھا اب تک وہ سینہ بہ سینہ چل رہا تھا۔
آئیے اس بات کو ایک قصہ سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
آدم ؑ کی اولاد میں سے کوئی شخص جو شاید ممکن ہو کہ دور چلے جانے والوں میں شامل تھا اور جو اپنے اللہ اور اسکے بتائے گئے اصولوں پر چلتا تھا اپنی تعلیمات اپنی نسل میں منتقل کرنے سے پہلے ہی اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ یہ وہی دور تھا جب شیطان لعین اسی انتظار میں راہ تک رہا تھا کہ کب اسے موقع ملے اور وہ اپنی کاروائی دہرائے، وہی کاروائی جو اس نے ان کے جد امجد آدم ؑ کے ساتھ کی تھی اور انہیں جنت سے نکلوا کے ہی چھوڑا تھا۔
اس شخص کی اولاد سے کے ساتھ جو ہونے والا تھا اسے جاننے کے لئے، تھوڑی دیر کے لئے ایک ایسے بچے کا تصور کیجئے کہ جو اپنے ماں باپ سے کہیں سفر میں بچھڑ گیا ہو، اس کی پریشانی ، ڈر اور بوکھلاہٹ کا کیا عالم ہوگا؟ اسے راستہ نہیں سجھائی دیتا، نہ اس کی مدد کو کوئی ذی نفس اسے دور دور تک نظر آتا ہے۔ ایسے میں ایک ڈاکو اور رہزن ایک نیک فرشتہ کے بھیس میں آئے اور اسے اٹھا کے اپنے ساتھ لے چلے، یہ راہزن اس بچے کو حت الامکان یہ یقین دلائے گا کہ وہ اسے صحیح راہ دکھائے گا، اور اس کی منزل یعنی اس کے ماں باپ سے ملوا کر ہی دم لے گا۔ ذرا سوچئے کہ اس بچے سے ساتھ اب کیا سلوک ہوگا، اسے اپنے ماں باپ سے ملنے کی پیاس اسے مجبور کردے گی کہ وہ اس راہزن کے بتائے ہوئے راستے پر چلے۔ بچہ اپنی سمجھ کے مطابق صحیح راستہ پہ چل رہا ہوگا مگر اس کے دل میں یہ کھٹکا بھی لگا ہوگا کہ کہیں یہ فرشتہ صفت انسان جو اس کی مدد کر رہا ہے اصلیت میں کوئی راہزن نہ ہو کہ جس کا کام راہ میں بیٹھ کر لوگوں کو گمراہ کرنا اور انکو نقصان پہنچانا ہو۔
بعینہ یہ حال آدم ؑ کی اس اولاد کا ہوا جس کا ذکر ہم نے ابھی کیا، کہ وہ باپ جو انہیں اپنے ساتھ صراط مستقیم کی طرف لےکے جارہا تھا ایک ناگہانی موت کا شکار ہو گیا اور اب اسکی اولاد راندہ درگاہ ہوگئی، اس شخص کے بچے نہ تو اتنے عقل و شعور کی عمر کو تھے کہ واپسی اپنے اس گھر کی طرف چلے جاتے کہ جہاں سے انہوں نے اپنا سفر شروع کیا تھا، اور نہ ہی آگے کا راستہ معلوم تھا کہ اپنا سفر جاری رکھتے۔ بھوک اور پیاس سے اس شخص کی فیملی کچھ دن ہی بچ پائی اور ایک دن سوائے ایک چھوٹے سے بچے کے سب لوگ مر گئے۔ یہ چھوٹا بچہ کہ جس کی زندگی کے آغاز میں ہی اس اسکا باپ چھن گیا، کیا سیکھ کے بڑا ہوگا؟ ظاہر ہے کہ اسے پہاڑ دیو قامت جنات نظر آئیں گے اور درخت بھوت پریت۔ رات کی تاریکی میں چمکتے ستارے اسے جگنو لگیں گے یا کوئی راستہ دکھانے والے محسن، دن ہوا تو سورج کو دیکھ کے شاید وہ سجدے میں گر گیا ہوگا کہ اس نے اسے رات کی خوفناکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آیا۔ بھوک اور پیاس کی شدت سے نڈھال یہ بچہ کسی سمت چل پڑتا ہے ، کچھ آگے جا کے اسے پانی کا چشمہ نظر آتا ہے اور اسی سے متصل کچھ پھلوں کے درخت۔ اس بچے کی جان تو بچ گئی مگر آپ اس سے جا کے پوچھیں کہ اللہ کون ہے، تو اس دنیا میں کیا کرنے آیا ہے؟ تیری تخلیق کا مقصد کیا ہے؟ کیا تجھے معلوم ہے کہ تجھے کیا کرنا ہے؟
اس قصہ میں جو حال اس چھوٹے بچے کا ہوا ہے ٹھیک یہی حال اس وقت کے انسان کا ہے۔ اسے یہ نہیں پتہ کہ اس کا خالق و مالک کون ہے، وہ اس دنیا میں کیا کرنے آیا ہے، ہمارے ارد گرد جو مخلوقات کا ایک سمندر ہے ان سب کی تخلیق کا اصل میں مقصد کیا ہے؟ ہم کیا کر رہے ہیں، کہاں جارہے ہیں۔